جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے پر غور کر سکتا ہے ایران

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے اور امریکا کے درمیان جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو تہران کی جوابی کارروائیوں میں مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش بھی شامل ہو سکتی ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے امریکا کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر اہم اور حساس مقامات کے تحفظ کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ ان اقدامات میں سرحدی علاقوں اور اہم تنصیبات کی سکیورٹی مزید سخت کرنا بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ جبل الفأس اور نطنز کے مقامات کے اطراف مٹی کے حفاظتی بند تعمیر کیے گئے۔ ان انتظامات کا مقصد ممکنہ امریکی فوجی پیش قدمی کی صورت میں حساس مقامات کو تحفظ فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ تنازع دوبارہ بھڑکنے کی صورت میں ایران خطے میں موجود مختلف اہداف کے خلاف کارروائیاں کر سکتا ہے۔

اخبار کے مطابق، تہران نے ثالثوں کو بھی پیغام دیا ہے کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے پر اس کا ردعمل پہلے سے زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ایرانی جوابی کارروائیوں میں مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی جنگی جہازوں کو ڈبونے کی کوشش شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم، یہ تفصیلات اخبار کی رپورٹ میں بیان کردہ ایرانی مؤقف اور ممکنہ اقدامات سے متعلق ہیں۔