اسحاق ڈار اور انتونیو گوتریس کی مشترکہ پریس کانفرنس، عالمی و علاقائی صورتحال پر گفتگو

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عالمی اور علاقائی معاملات سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا پاکستان آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انتونیو گوتریس نے اپنی مصروفیات کے باوجود پاکستان کی دعوت قبول کی، جو کثیرالجہتی معاملات کے حل کیلئے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

نائب وزیراعظم نے انتونیو گوتریس کو پاکستان کا قریبی دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2012 کے تباہ کن سیلاب کے دوران بھی انہوں نے پاکستان کیلئے بھرپور معاونت فراہم کی تھی۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور دنیا کو ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، حوثیوں سمیت مختلف علاقائی مسائل کا سامنا ہے، جبکہ باب المندب کی صورتحال بھی عالمی توجہ کا مرکز ہے۔

انہوں نے کہا کہ متعدد تنازعات کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں، لیکن اصل چیلنج ان پر مؤثر عملدرآمد کا ہے۔ مسئلہ کشمیر بھی ان معاملات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق قراردادوں پر عمل نہ ہونے کی صورت میں ایک ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں عملدرآمد نہ کرنے پر جوابدہی کا طریقہ کار موجود ہو۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ دنیا کو درپیش تمام مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے نکالا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا دفتر اس مقصد کیلئے ہر وقت دستیاب ہے۔

ایران پر اسرائیلی حملے کا ذکر کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ان حملوں کی مذمت کرنے والا فوری طور پر پہلا ملک تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن، سلامتی، مذاکرات اور کثیرالجہتی نظام پر یقین رکھتا ہے۔

نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں مفاہمتی کوششوں کے ذریعے ایسے فریقین کو ایک جگہ اکٹھا کیا گیا جو گزشتہ 47 برس سے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار نہیں تھے۔