بھارت کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتا ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرکے کشمیری اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اب تک 90 ہزار سے زائد کشمیری جانیں قربان کرچکے ہیں، جبکہ کشمیری قیادت کو جیلوں میں رکھا گیا ہے۔
اسلام آباد میں یومِ سیاہ کشمیر کے سلسلے میں منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ہر سال یہ دن اس عزم کے ساتھ مناتا ہے کہ عالمی برادری کو بھارت کے اقدامات اور مقبوضہ علاقے کی صورتحال سے آگاہ رکھا جائے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر غیرقانونی قبضے کے بعد وہاں آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں کشمیری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جبکہ حریت رہنماؤں کو پابندِ سلاسل کیا گیا ہے اور بعض مواقع پر کشمیریوں کو نمازِ جمعہ ادا کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر 1947 میں کشمیر سے متعلق بھارت کے اقدام پر اعتراضات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ پاکستان اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے پلیٹ فارم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے اجلاس منعقد کرتا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر بھی او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس ہوا۔
اسحاق ڈار کے مطابق بھارت نے 5 اگست 2019 کو یکطرفہ اقدام کرکے مسئلہ کشمیر کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت عالمی مبصرین کو مقبوضہ کشمیر میں داخلے کی اجازت نہیں دیتا، تاہم پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کا مقدمہ پیش کرتا رہے گا۔