ایرانی ترجمان کا سعودی عرب، جاپان اور اردن کو ایران مخالف قرارداد پر خبردار کرنے کا دعویٰ
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ سعودی عرب، جاپان اور اردن کو ایران کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کی حمایت کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اس وقت معمول کے امن یا جنگ کے درمیانی مرحلے میں نہیں بلکہ جنگی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق سمندری پابندیاں اور ناکہ بندی بھی جنگ کی ایک شکل ہیں، اس لیے موجودہ حالات میں ایران کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو دفاع کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
ایرانی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز اب بھی ایران کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال کے اثرات کی ذمہ داری بھی امریکا پر عائد ہوتی ہے۔
اسماعیل بقائی نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو دہشت گردی کی تعریف یا اس کے خلاف کارروائی کے معیار طے کرنے کا حق حاصل نہیں۔ ان کے مطابق امریکا ماضی میں مختلف دہشت گرد گروہوں کو مسلح اور منظم کرتا رہا ہے۔
انہوں نے 11 ستمبر کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات میں ملوث افراد ایرانی شہری نہیں تھے۔ ایرانی ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر افغانستان اور عراق میں کی جانے والی امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔