اسرائیل میں عام انتخابات کے لیے پولنگ شروع، نیتن یاہو اور اپوزیشن میں سخت مقابلے کا امکان
اسرائیل میں عام انتخابات کے لیے ووٹ ڈالنے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ پولنگ مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے تک جاری رہے گی، جبکہ انتخابی نتائج ملک کی آئندہ سیاسی سمت اور حکومت سازی کے حوالے سے اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
انتخابی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 73 لاکھ اسرائیلی شہری ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ پارلیمنٹ کی 120 نشستوں میں سے حکومت تشکیل دینے کے لیے کسی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 61 نشستیں حاصل کرنا ہوں گی۔ اس مرتبہ تقریباً پانچ لاکھ افراد پہلی بار اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، جبکہ اطلاعات کے مطابق لگ بھگ 70 ہزار اسرائیلی شہری صرف ووٹ ڈالنے کے لیے بیرونِ ملک سے وطن واپس آ رہے ہیں۔
نیتن یاہو کے اتحاد اور اپوزیشن میں مقابلہ
انتخابات میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے حکمران اتحاد اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن کی نمایاں شخصیات میں اسرائیل کے سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ اور سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ شامل ہیں۔
گادی آئزنکوٹ کے عوامی تاثر کو ان کی مقبولیت کی اہم وجوہات میں شمار کیا جاتا ہے۔ سابق فوجی افسر آئزنکوٹ نرم انداز میں گفتگو کے لیے جانے جاتے ہیں، جبکہ غزہ جنگ میں ان کے بیٹے کی ہلاکت بھی ان کی ذاتی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے۔ وہ خود کو امیر اور بااثر شہری طبقے کے بجائے عام لوگوں سے تعلق رکھنے والی شخصیت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
7 اکتوبر 2023 کے بعد پہلا عام انتخاب
یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد اسرائیل میں ہونے والے پہلے عام انتخابات ہیں۔ اسی وجہ سے انتخابی عمل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ اس کے نتائج نہ صرف سیاسی قیادت بلکہ ملک کی آئندہ حکومتی پالیسیوں اور سمت پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔