وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے متنازع ٹیلی کمیونیکیشن بل کے حوالے سے اپنا موقف جاری کر دیا
وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ترمیمی) بل 2026 سے متعلق سامنے آنے والے خدشات پر اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ قانون میں شہریوں کے آئینی حقوق اور نجی ملکیت کے تحفظ کو مکمل اہمیت دی گئی ہے۔
وزارت کی جانب سے جاری وضاحت میں کہا گیا کہ بل میں شامل “رائٹ آف وے” کی دفعات کا بنیادی مقصد ملک بھر میں ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک کی توسیع کو آسان بنانا اور جدید رابطہ سہولیات کی فراہمی کو تیز کرنا ہے۔ تاہم ان شقوں کے تحت ٹیلی کام کمپنیوں کو کسی بھی نجی جائیداد میں مالک کی اجازت کے بغیر داخل ہونے یا زمین پر زبردستی قبضہ کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔
وزارت کے مطابق جائیداد کے مالکان کو مکمل حق حاصل ہوگا کہ وہ مجوزہ منصوبوں کے حوالے سے اپنی شرائط طے کریں، مناسب معاوضے کا مطالبہ کریں یا مجوزہ راستے پر اعتراضات اٹھائیں۔ اس کے علاوہ بل میں شامل جرمانوں کا اطلاق صرف ان صورتوں میں ہوگا جہاں متعلقہ فریق معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد اس کی شرائط کی خلاف ورزی کرے۔
وضاحت میں مزید کہا گیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو کام مکمل ہونے کے بعد متاثرہ جائیداد یا مقام کو اس کی سابقہ حالت میں بحال کرنا لازمی ہوگا۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے منظوری حاصل کرنے کے بعد یہ ترمیمی بل اس وقت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زیرِ غور ہے، جہاں اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔