جاپان اور امریکا کی بڑی مشترکہ فوجی مشقیں شروع، ہزاروں اہلکار شریک
جاپان اور امریکا نے بڑے پیمانے پر مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے، جن کا دائرہ تائیوان کے قریب سمندری علاقوں سے جاپان کے شمالی جزیرے ہوکائیڈو تک پھیلا ہوا ہے۔ ان مشقوں کو ’کین سوورڈ‘ (Keen Sword) کا نام دیا گیا ہے۔
روسی خبر رساں ادارے تاس نے جاپانی خبر رساں ایجنسی کیوڈو کے حوالے سے بتایا کہ ان فوجی سرگرمیوں میں جاپان کے تقریباً 45 ہزار اور امریکا کے 12 ہزار فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا، جرمنی اور فرانس سمیت سات ممالک کے فوجی اہلکاروں کی شرکت بھی متوقع ہے۔
مشقوں کے دوران جاپان پہلی بار اپنے نئے ٹائپ 25 موبائل میزائل نظام کو صوبہ کوماموتو میں قائم اڈے سے باہر تعینات کرے گا۔ ان میزائلوں کی مبینہ مار کرنے کی صلاحیت تقریباً ایک ہزار کلومیٹر ہے۔ جاپانی اور امریکی افواج ان ہتھیاروں کی رہنمائی، تعیناتی اور باہمی رابطے کے طریقہ کار کی مشق کریں گی، تاہم میزائل داغنے کا عملی مظاہرہ نہیں ہوگا۔
دوسری جانب امریکی فوج بھی پہلی مرتبہ جاپان کے جزیرے یوناغونی میں اپنے نیوی میرین ایکسپیڈیشنری شپ انٹرڈکشن سسٹم (NMESIS) اور میرین ایئر ڈیفنس انٹیگریٹڈ سسٹم (MADIS) کو تعینات کرے گی۔ یہ دفاعی نظام ڈرونز اور کم بلندی پر پرواز کرنے والے دیگر اہداف کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
ان مشترکہ مشقوں میں مختلف فوجی وسائل کی تعیناتی اور آپریشنل رابطوں کی مشق پر توجہ دی جائے گی، جبکہ متعدد اتحادی ممالک کی شرکت سے اس سرگرمی کا دائرہ مزید وسیع ہوگا۔