17 ارب روپے کا جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی افتتاح کے 6 ہفتے بعد بھی مکمل فعال نہ ہوسکا
لاہور میں 17 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی افتتاح کے تقریباً 6 ہفتے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر فعال نہیں ہوسکا۔ صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کے مطابق ادارے کو مکمل طور پر آپریشنل ہونے میں مزید 3 ہفتے لگ سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں اب تک انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی یا بائی پاس سرجری کا کوئی پروسیجر نہیں کیا گیا۔ ہسپتال پہنچنے والے مریضوں کو علاج کے لیے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا جارہا ہے۔
250 بستروں پر مشتمل اس ہسپتال میں اس وقت صرف او پی ڈی اور ایمرجنسی کی سہولیات دستیاب ہیں، جبکہ ان ڈور سروسز کا باقاعدہ آغاز بھی نہیں ہوسکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ادارے میں کئی اہم انتظامی و طبی عہدے تاحال خالی ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد سینئر کارڈیالوجسٹس اور کارڈیک سرجنز نے ابھی تک اپنی ذمہ داریاں سنبھالی نہیں ہیں۔
ذرائع کے مطابق ہسپتال کے بعض شعبے بھی سربراہوں کے بغیر کام کررہے ہیں، جس کے باعث دل کے مریضوں کے لیے مکمل طبی و جراحی سہولیات شروع کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے بتایا کہ جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو مکمل طور پر فعال کرنے میں مزید تقریباً 3 ہفتے درکار ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگلے ہفتے سے انجیوگرافی کی سہولت شروع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ مریضوں کو جلد ہی جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں علاج کی سہولت میسر آئے گی، جبکہ جان بچانے والے طبی پروسیجرز کے آغاز کے لیے ماہر سرجنز پر مشتمل ٹیم بھی تشکیل دی جارہی ہے۔