اردن کے چرچ میں فائرنگ، 8 افراد ہلاک اور 40 زخمی
اردن میں ایک چرچ کے اندر آخری رسومات کی تقریب کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں 8 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ 40 دیگر زخمی ہوگئے۔
اردنی حکام کے مطابق یہ واقعہ صوبہ کرک کے علاقے میں واقع حمود چرچ میں پیش آیا، جہاں ایک میت کی آخری رسومات ادا کی جارہی تھیں۔ اسی دوران مسلح افراد نے فائرنگ کردی، جس کے باعث متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق اردن کے وزیراعظم نے واقعے میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چرچ پر حملہ دہشت گردی کی سوچ اور انتہا پسندی کا نتیجہ ہے۔
دوسری جانب اردن کے وزیر داخلہ مازن الفریایہ نے بتایا کہ حملے میں انتہا پسند عناصر کے ملوث ہونے کا شبہ ہے، تاہم فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان کا تعلق اردن کے اندر موجود کسی گروہ سے ہے یا وہ بیرون ملک کسی تنظیم سے وابستہ ہیں۔
حکام کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ حملے میں ملوث افراد اور ان کے ممکنہ روابط کا تعین کیا جاسکے۔