خیبرپختونخوا میں گندم کے بحران کا خدشہ، سرکاری گوداموں میں دو ہفتوں کا ذخیرہ باقی

خیبرپختونخوا میں گندم کے ممکنہ بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جہاں محکمہ خوراک کے سرکاری گوداموں میں موجود ذخیرہ صوبے کی موجودہ ضرورت کے مطابق تقریباً دو ہفتوں کے لیے کافی رہ گیا ہے۔

محکمہ خوراک کی دستاویز کے مطابق صوبے کے سرکاری گوداموں میں اس وقت ایک لاکھ 89 ہزار میٹرک ٹن گندم موجود ہے، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر خیبرپختونخوا کو تقریباً 14 ہزار 900 میٹرک ٹن گندم درکار ہوتی ہے۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ صوبے کی سالانہ گندم کی ضرورت تقریباً 54 لاکھ 36 ہزار میٹرک ٹن ہے، جبکہ مقامی سطح پر صرف 14 لاکھ 72 ہزار میٹرک ٹن گندم پیدا ہوتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا کو سالانہ ضرورت پوری کرنے کے لیے تقریباً 39 لاکھ 64 ہزار میٹرک ٹن گندم کی کمی کا سامنا ہے۔ دستاویز میں صوبے کی مجموعی آبادی 4 کروڑ 38 لاکھ 43 ہزار بتائی گئی ہے۔

محکمہ خوراک خیبرپختونخوا نے موجودہ ذخیرے اور طلب کے فرق کے باعث گندم کی دستیابی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ تاہم حکام کے مطابق پاسکو سے 2 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن گندم کی فراہمی زیرِ عمل ہے، جس سے ممکنہ قلت پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

یوں گندم کی موجودہ دستیابی اور آئندہ فراہمی صوبے میں آٹے اور گندم کی طلب پوری کرنے کے لیے اہم قرار دی جارہی ہے۔