وفاقی وزراء کا مؤقف: خیبرپختونخوا میں آئینی تقاضوں کے تحت اقدامات کیے گئے
وفاقی حکومت کے وزراء نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر آئین کے مطابق اقدامات کیے گئے۔ ان کے مطابق صوبے میں حکومتی عملداری متاثر ہو چکی تھی اور دہشتگردی کے بڑھتے واقعات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر تھے۔
اسلام آباد میں غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف طویل جدوجہد میں غیر معمولی قربانیاں دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم نے اس جنگ میں ثابت قدمی اور بہادری کا مظاہرہ کیا، جبکہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کوششیں تاحال جاری ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق پاکستان کئی دہائیوں سے دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر کیا، جس کے بعد صدر مملکت نے اس کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں غیر معمولی حالات سے نمٹنے اور ریاستی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف طریقہ کار موجود ہیں۔
وفاقی وزیر قانون نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات اور جانی نقصانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران صوبے میں دہشتگردی کے 2,911 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ حالیہ عرصے میں یہ تعداد 8,600 تک پہنچ گئی۔ انہوں نے دہشتگردی کے واقعات میں 200 فیصد اضافے کا بھی دعویٰ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملکی سرحدوں کا دفاع مسلح افواج کی بنیادی ذمہ داری ہے، تاہم صوبائی حکومتوں کی درخواست پر فوج داخلی بدامنی پر قابو پانے میں بھی معاونت کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے مسئلے کے حل کے لیے مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی، لیکن اس کے خاتمے کے لیے درکار وقت کے بارے میں کوئی حتمی مدت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان جنگ کے بعد خطے میں دہشتگردی کے اثرات سامنے آتے رہے ہیں اور شہریوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بریفنگ کے دوران کہا کہ خیبرپختونخوا میں اقدامات آئینی دائرے کے اندر رہتے ہوئے کیے گئے۔ ان کے مطابق صوبے میں انتظامی عملداری کمزور ہو چکی تھی اور عوام امن و امان کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی کے معاملے پر ایک ملک میں دو الگ پالیسیوں پر عمل نہیں ہو سکتا، جبکہ وفاقی حکومت دہشتگردی کے خلاف مشترکہ قومی حکمت عملی تشکیل دینا چاہتی تھی۔
عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے مارچ کے حوالے سے معاہدے پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا تھا، تاہم سہیل آفریدی نے اسے قبول نہیں کیا۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی دہشتگردی کے خلاف پالیسی اور کارروائی کے معاملے پر آمادہ نہیں تھے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ صوبے میں حکمرانی کا نظام متاثر اور امن و امان کی صورتحال خراب ہو چکی تھی، جبکہ افغانستان سے متعلق سفارتی رابطے اور بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغان سرزمین پر دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ کیا جائے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پی ٹی آئی کا مارچ دہشتگرد تنظیموں سے رابطوں کے بعد محفوظ راستے سے گزرا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے زیرِ اثر علاقوں سے سیاسی نمائندوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
عطا اللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا حکومت کو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کے تحت فراہم کیے جانے والے فنڈز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو تقریباً 800 ارب روپے دیے گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ رقم کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو مضبوط بنانے، سیف سٹی کیمروں کی تنصیب اور انتہاپسندی کے خلاف مؤثر بیانیہ تشکیل دینے پر کیوں خرچ نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق صوبے میں سیاست، دہشتگردی اور جرائم کے درمیان گٹھ جوڑ بھی موجود تھا۔
وفاقی وزراء نے بریفنگ میں مؤقف اختیار کیا کہ دہشتگردی کے خاتمے، شہریوں کے تحفظ اور صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے مربوط حکمت عملی ضروری ہے۔ تاہم بریفنگ میں بیان کیے گئے الزامات اور دعوے وفاقی حکام کے مؤقف کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔