لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست، شہریوں کو احتیاط کی ہدایت

لاہور میں فضائی آلودگی کی صورتحال ایک بار پھر تشویش ناک ہوگئی ہے اور شہر عالمی سطح پر آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا ہے۔ عالمی ایئر مانیٹرنگ اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 190 سے تجاوز کر رہا ہے، جس کے باعث شہریوں کو صحت کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آج لاہور میں آسمان جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے، تاہم بارش کی پیش گوئی نہیں کی گئی۔ بارش نہ ہونے کی صورت میں فضائی آلودگی سے متعلق مسائل برقرار رہ سکتے ہیں۔

سموگ اور فضائی آلودگی سے بچاؤ کے لیے اہم احتیاطی تدابیر

ماہرین صحت کی عمومی ہدایات کے مطابق آلودہ فضا میں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے۔ خصوصاً دمہ، سانس کی بیماریوں یا دیگر حساس طبی مسائل کا سامنا کرنے والے افراد گھر کے اندر رہنے کو ترجیح دیں اور آلودگی سے بچاؤ کے لیے اضافی احتیاط کریں۔

گھروں میں دروازے اور کھڑکیاں بند رکھنے سے باہر کی آلودہ ہوا کے داخلے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اگر دستیاب ہو تو مناسب ایئر پیوریفائر استعمال کریں اور اس کے فلٹرز کی صفائی یا تبدیلی مقررہ ہدایات کے مطابق کرتے رہیں۔

سموگ کے دوران پارکوں، سڑکوں اور کھلی جگہوں پر جاگنگ یا سخت جسمانی ورزش سے گریز بہتر ہے۔ ورزش ضروری ہو تو اسے گھر کے اندر یا کسی ایسی جگہ کریں جہاں ہوا نسبتاً صاف ہو۔

ضرورت کے تحت باہر نکلتے وقت اچھی فٹنگ والا N95 یا N99 ماسک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ماسک کا درست طریقے سے چہرے پر بیٹھنا ضروری ہے تاکہ ہوا میں موجود باریک ذرات سے تحفظ بہتر بنایا جا سکے۔

گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں بھی فضائی آلودگی میں حصہ ڈالتا ہے۔ شہری ممکنہ حد تک پبلک ٹرانسپورٹ، مشترکہ سواری یا کار پولنگ کا انتخاب کریں، تاکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد اور دھوئیں کے اخراج کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔

گھر کے اندر ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایئر پیوریفائر مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم ان کا مؤثر استعمال مناسب فلٹر، کمرے کے حجم اور باقاعدہ دیکھ بھال پر منحصر ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ سموگ کے دنوں میں فضائی معیار سے متعلق تازہ ہدایات پر نظر رکھیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں۔