ای چالان سے بچنے والوں کے خلاف لاہور ٹریفک پولیس کا کریک ڈاؤن، 113 گاڑیوں پر مقدمات
لاہور میں ای چالان سے بچنے کے لیے جعلی، بوگس یا غیر نمونہ نمبر پلیٹس استعمال کرنے والی گاڑیوں کے خلاف ٹریفک پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران بوگس نمبر پلیٹس کے استعمال پر موٹرسائیکلوں اور لگژری گاڑیوں سمیت 113 وہیکلز کے خلاف مقدمات درج کیے جاچکے ہیں۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کے مطابق جاری انفورسمنٹ مہم کے دوران بغیر نمبر پلیٹ یا ’’اپلائیڈ فار‘‘ گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں سمیت 17 ہزار 749 وہیکلز کو چالان ٹکٹس جاری کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ ایکسائز کے مقررہ ڈیزائن کے برخلاف فینسی یا غیر معیاری نمبر پلیٹس استعمال کرنے پر 12 ہزار 996 گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی گئی، جبکہ نمبر پلیٹ کو موڑنے، توڑنے یا اس انداز میں تبدیل کرنے پر جس سے گاڑی کا ماڈل چھپ جائے، 11 ہزار 552 وہیکلز کے چالان کیے گئے۔
ٹریفک پولیس کی مہم کے دوران معمولی خلاف ورزیوں کے مرتکب 84 ہزار سے زائد موٹرسائیکل اور گاڑی مالکان کو ٹریفک قوانین کے حوالے سے آگاہی بھی فراہم کی گئی۔
سی ٹی او کے مطابق ڈیجیٹل وارڈن ون ایپ کے ذریعے شواہد کی بنیاد پر ای چالان جاری کیے جارہے ہیں۔ خلاف ورزی کی تصاویر بھی شہریوں کو بطور ثبوت بھیجی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جعلی نمبر پلیٹس استعمال کرنے والوں کے خلاف دھوکہ دہی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کرائے جارہے ہیں۔
سید عبدالرحیم شیرازی نے شہریوں کو ہدایت کی کہ گاڑی اپنے نام منتقل کروانے کی صورت میں پرانی نمبر پلیٹ برقرار رکھنے کے بجائے نیا یونیورسل نمبر لگایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بعض افراد جان بوجھ کر نمبر پلیٹس میں ردوبدل کرکے ای چالان سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ قانون شکن عناصر اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے کے لیے بھی جعلی نمبر پلیٹس استعمال کرسکتے ہیں۔
سی ٹی او لاہور نے واضح کیا کہ جن گاڑیوں پر ایکسائز کے منظور شدہ نمونے کے مطابق نمبر پلیٹس نصب ہیں، ان کے خلاف صرف نمبر پلیٹ کے حوالے سے کوئی چالان نہیں کیا جارہا۔