لاہور میں ڈرائیورز کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، اوورسپیڈنگ پر مقدمات ہوں گے
چیف ٹریفک آفیسر لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے اعلان کیا ہے کہ سڑکوں پر حادثات کی روک تھام کے لیے گاڑیوں کی فٹنس کے ساتھ ڈرائیورز کی جسمانی اور ذہنی صحت کی جانچ بھی ضروری قرار دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ حد سے زیادہ رفتار پر گاڑی چلانے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے، جبکہ ڈرائیورز کی طبی حالت، نفسیاتی صحت، بینائی اور کلر بلائنڈنس جانچنے کے لیے موبائل میڈیکل کیمپس قائم کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن ’’محفوظ پنجاب، محفوظ سڑکیں‘‘ کے تحت روڈ سیفٹی اور اسموگ کی روک تھام کے موضوع پر ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں بس اونرز، مزدا، منی گڈز، ٹرک ٹرانسپورٹ اور ٹریکٹر ٹرالی ایسوسی ایشنز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ وفد میں تنویر احمد جٹ، ملک مسعود، سلمان گجر، محمد کامران خان، محمد عامر، محمد پرویز، محمد انور چوہدری اور شکیل بٹ شامل تھے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سی ٹی او لاہور نے ٹرانسپورٹرز کو ہدایت کی کہ تیز رفتاری پر نظر رکھنے کے لیے گاڑیوں میں کیمرے نصب کیے جائیں۔ انہوں نے رات کے اوقات میں حادثات سے بچاؤ کے لیے بیک لائٹس اور ریفلیکٹرز کو درست حالت میں رکھنے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریت اور مٹی لے جانے والی ایسی ٹرالیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی جو سامان کو ترپال سے ڈھانپے بغیر سڑکوں پر لائی جائیں گی۔
سید عبدالرحیم شیرازی نے بتایا کہ فضائی آلودگی کا سبب بننے والی دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے لیے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کو اپنے ڈرائیورز کا مکمل ریکارڈ فراہم کرنا ہوگا اور گاڑیاں صرف لائسنس یافتہ افراد کے حوالے کی جا سکیں گی۔ اس کے علاوہ لاہور میں مال بردار گاڑیوں کے داخلے کے مقررہ اوقات اور متعلقہ پابندیوں پر بھی سختی سے عمل کرایا جائے گا۔
چیف ٹریفک آفیسر نے مزید کہا کہ ٹرانسپورٹرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ڈرائیورز کو مقررہ رفتار کی پابندی اور درست لین میں گاڑی چلانے کا پابند بنائیں۔ اجلاس میں شریک ٹرانسپورٹرز نے ٹریفک حادثات کم کرنے، سڑکوں کو محفوظ بنانے اور اسموگ پر قابو پانے کے لیے حکومتی اقدامات میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔