مارکو روبیو کے دورۂ بھارت کا شیڈول زیرِ بحث، مکیش امبانی کے سیاسی اثر و رسوخ پر سوالات
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مجوزہ دورۂ بھارت کے پروگرام نے بھارتی میڈیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دورے کے شیڈول میں نئی دہلی کے بجائے ممبئی اور جام نگر کو شامل کیے جانے پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ بھارت میں سیاسی فیصلوں پر اصل اثر و رسوخ کس کا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مارکو روبیو اپنے دورے کے دوران ممبئی اور جام نگر جائیں گے، جہاں ان کی مکیش امبانی سمیت دیگر نمایاں کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ جام نگر میں امبانی خاندان کی متعدد صنعتی سرگرمیاں قائم ہیں۔
رپورٹس میں اس دورے کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کے پروگرام میں نئی دہلی کا شامل نہ ہونا توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تاہم، دورے کی حتمی تفصیلات اور ملاقاتوں کے ایجنڈے کے بارے میں مزید سرکاری وضاحت سامنے آنا باقی ہے۔
اس معاملے نے ایلون مسک کے سابقہ طنزیہ بیان کو بھی دوبارہ زیرِ بحث لا دیا ہے، جس میں انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بجائے ارب پتی صنعت کار مکیش امبانی کو بھارت کا اصل حکمران قرار دینے سے متعلق تبصرہ کیا تھا۔
مارکو روبیو کے دورے کے شیڈول کے بعد بھارتی میڈیا میں امبانی کے کاروباری اثر و رسوخ اور ملکی سیاست سے اس کے تعلق پر بحث جاری ہے۔ تاہم، صرف دورے کے پروگرام کی بنیاد پر بھارت میں حکومتی اختیارات یا سیاسی اثر و رسوخ کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔