بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل پولیس اسٹیشن پراجیکٹ سے شہری مستفید ہوئے جبکہ مجموعی طور پر 9702 سروسزکا اجراء کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں بدمعاشی کلچر برداشت نہیں ہوگا، معافی نہیں دیں گے۔منشیات کے خاتمے کیلئے بھرپور کارروائی یقینی بنائی جائے۔ جرائم کے ہاٹ سپاٹ کی نشاندہی اور نیٹ ورک توڑنے کیلئے بھرپوراقدامات کیے جائیں۔ صوبہ بھر میں ہرجگہ پٹرولنگ نظر آنی چاہیے تاکہ جرائم پیشہ افراد میں قانون کا خوف پیدا ہو۔ ہجوم سے نمٹنے کیلئے مخصوص آر ایم سی پولیس فورس کی مستقل کیپسٹی بلڈنگ جاری رکھی جائے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ریجنل پولیس افسران (آر پی اوز) اور ضلعی پولیس افسران (ڈی پی اوز) نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تمام ڈویژنز اور اضلاع میں امن و امان کی صورتِ حال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں اضافے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کو مجموعی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے چار ہفتوں کی مہلت دے دی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امن و امان میں نمایاں بہتری نہ آئی تو متعلقہ پولیس افسران کو عہدوں سے ہٹایا جا سکتا ہے۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ نے پولیس کو ہدایت کی کہ صوبے کے تمام اضلاع، بالخصوص سرحدی علاقوں میں گندم کی اسمگلنگ روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے محکمہ پولیس میں انسدادِ رشوت ستانی کی مہم تیز کرنے اور بدعنوانی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا دائرہ وسیع کرنے پر بھی زور دیا۔

مریم نواز نے ٹریفک کے انتظامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تیز رفتاری کرنے والوں کے خلاف یقینی کارروائی کی ہدایت کی۔ انہوں نے صوبہ بھر میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف پیشگی اقدامات اور اسلحے کی برآمدگی کا حکم بھی دیا۔ اس کے علاوہ کیمرے والی عینکوں سمیت دیگر جاسوسی آلات پر عائد پابندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے صوبے بھر میں پولیس گشت بڑھانے اور افسران کو تبلیغی اجتماع کے منتظمین سے خود ملاقات کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے تمام آر پی اوز کو ہدایت کی کہ ہر قسم کے جرائم کے حوالے سے ہفتہ وار اجلاس منعقد کیے جائیں اور ان میں متعلقہ ڈی پی اوز کی کارکردگی کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی جائے۔

لاہور میں ڈولفن فورس کی مؤثر پٹرولنگ کے لیے موٹر سائیکلیں اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے مجوزہ دھرنے کے دوران بہترین فرائض انجام دینے پر آر ایم سی پولیس فورس کو سراہا اور دورانِ ڈیوٹی جانیں قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے جاں بحق پولیس افسران کے اہلِ خانہ کو تاحیات تنخواہ اور مالی معاونت کا پیکج دینے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس میں مریم نواز نے راولپنڈی ڈویژن میں امن و امان کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کی، جبکہ ملتان میں پیش آنے والے واقعے سمیت دیگر سنگین جرائم کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ آئی جی پنجاب نے صوبے میں جرائم کی مجموعی صورتِ حال اور پولیس کی کارکردگی پر بریفنگ دی۔

پنجاب کے مختلف اضلاع میں جرائم کی شرح میں کمی کا دعویٰ

اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں جرائم کی مجموعی شرح میں کمی کا رجحان برقرار ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں جرائم میں مجموعی طور پر 41 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

ڈیرہ غازی خان ریجن میں جرائم کی شرح 16 فیصد کم ہوئی، جبکہ کوٹ ادو میں 27 فیصد، راجن پور میں 7 فیصد، لیہ میں 25 فیصد، ڈیرہ غازی خان ضلع میں 9 فیصد اور مظفر گڑھ میں 25 فیصد کمی رپورٹ کی گئی۔

بریفنگ کے مطابق بہاولپور ریجن میں جرائم کی شرح 52 فیصد گھٹی، جبکہ رحیم یار خان میں 50 فیصد کمی سامنے آئی۔ شیخوپورہ ریجن میں جرائم میں 32 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ضلع قصور میں 32 فیصد، ننکانہ صاحب میں 19 فیصد اور شیخوپورہ ضلع میں 31 فیصد کمی رپورٹ ہوئی۔

ملتان ریجن میں جرائم کی مجموعی شرح 47 فیصد کم ہونے کی اطلاع دی گئی۔ ضلع وہاڑی میں 50 فیصد، لودھراں میں 30 فیصد، خانیوال میں 40 فیصد اور ملتان میں 49 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

راولپنڈی ریجن میں جرائم کی شرح مجموعی طور پر 36 فیصد کم ہوئی۔ ضلع راولپنڈی میں 42 فیصد، جہلم میں 38 فیصد، اٹک میں 9 فیصد، چکوال میں 10 فیصد اور مری میں 17 فیصد کمی بتائی گئی۔

ساہیوال ریجن میں جرائم کی مجموعی شرح 42 فیصد گھٹی، جبکہ اوکاڑہ میں 45 فیصد، ساہیوال میں 39 فیصد اور پاکپتن میں 43 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

گوجرانوالہ ریجن میں جرائم کی شرح میں 67 فیصد کمی رپورٹ ہوئی۔ ضلع سیالکوٹ میں 57 فیصد، نارووال میں 54 فیصد اور گوجرانوالہ میں 73 فیصد کمی بتائی گئی۔

اسی طرح گجرات ریجن میں جرائم کی مجموعی شرح 58 فیصد کم ہونے کی اطلاع دی گئی۔ وزیرآباد میں 67 فیصد، منڈی بہاؤالدین میں 51 فیصد، گجرات میں 56 فیصد اور حافظ آباد میں 55 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ موبائل پولیس اسٹیشن منصوبے کے ذریعے شہریوں کو مختلف خدمات فراہم کی گئیں اور مجموعی طور پر 9 ہزار 702 سروسز جاری کی گئیں۔

جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

وزیراعلیٰ مریم نواز نے واضح کیا کہ پنجاب میں غنڈہ گردی اور بدمعاشی کے کلچر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے عناصر کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے منشیات کے خاتمے کے لیے بھرپور کارروائیاں کرنے اور جرائم کے گڑھ بننے والے علاقوں کی نشاندہی کرکے مجرمانہ نیٹ ورکس توڑنے کی ہدایت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے ہر علاقے میں پولیس کی پٹرولنگ نمایاں ہونی چاہیے تاکہ جرائم پیشہ افراد میں قانون کا خوف پیدا ہو۔ وزیراعلیٰ نے ہجوم سے نمٹنے کے لیے مختص آر ایم سی پولیس فورس کی تربیت اور صلاحیتوں میں مسلسل اضافے کا عمل جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔