ایرانی صدر: جارح قوتوں کے اقدامات پر نظرثانی تک مزاحمت جاری رہے گی
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جب تک جارح قوتیں اپنے اقدامات پر پشیمان ہوکر مؤقف پر نظرثانی نہیں کرتیں، ایران کی جانب سے مزاحمت کا سلسلہ جاری رہے گا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران جنگ کا حامی نہیں اور تنازعات سے گریز کو عوامی مفادات اور خطے کے امن و سلامتی کے لیے بہتر سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی ریاست اپنی قوم کے حقوق کے تحفظ کے لیے بدستور اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
دوسری جانب ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کو ایران کے نئے میزائلوں کے ذریعے واضح پیغام مل چکا ہے۔
محسن رضائی کے مطابق ایران کے خلاف جاری مبینہ معاشی دباؤ کا جواب خلیج فارس میں بحری آمدورفت کے لیے ممنوع زون قائم کرکے دینے کی تجویز زیر غور ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ بحری زون امریکی بحری ناکہ بندی کی حدود سے شروع ہوکر خلیج فارس تک پھیل سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس علاقے میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد ایران پر جاری دباؤ کا جواب دینا اور خطے میں اپنی پوزیشن واضح کرنا ہے۔