مولانا فضل الرحمان کا مہنگائی اور ملکی صورتحال پر اظہار تشویش

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک میں بڑھتے ہوئے قرضوں، مہنگائی اور امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو درپیش مشکلات کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض عالمی طاقتوں نے اسلامی ممالک کے دفاعی تعاون کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں حکومتی معاملات کے حوالے سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے، جبکہ قرضوں کا بوجھ اور مہنگائی دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق عوام کو درپیش معاشی مشکلات کا مناسب ازالہ نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاج کے اعلانات کے بعد اسلام آباد میں کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں۔ ان کے بقول ایسے اقدامات عوام میں بے چینی بڑھانے کے بجائے مسائل کے حل کے لیے سیاسی مکالمے اور آئینی راستوں کو فروغ دینے کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ ملک میں بڑے ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں اور سرمایہ بیرون ملک منتقل ہونے کا رجحان بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے چین کا اعتماد بھی متاثر کیا ہے جبکہ بعض علاقوں میں ریاستی رٹ اور امن و امان کے مسائل برقرار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ملک کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے اور اہم معاملات کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جانا چاہیے۔ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور جنگ بندی کے حوالے سے بھی پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کو خطے کی صورتحال اور اس کے ممکنہ اثرات سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔

جے یو آئی سربراہ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اس تعاون میں مصر اور ایران کو بھی شامل ہونا چاہیے تھا، تاہم عالمی طاقتوں نے اسلامی دفاعی اتحاد کو نقصان پہنچایا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستان کی کوششوں کے نتائج کے بارے میں قوم کو مکمل طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق خطے میں دوبارہ پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی واضح معلومات سامنے آنی چاہئیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا تھا اور اسلام آباد معاہدے پر عمل درآمد کو کشیدگی کم کرنے کا اہم ذریعہ سمجھتا ہے۔

سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کے خیال میں جے یو آئی کے بغیر موجودہ حکومت کی تشکیل اور اس کے استحکام کے معاملات مختلف نوعیت اختیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی حکومت سے الگ ہوتی ہے تو حکومت اقلیت میں آ سکتی ہے۔ تاہم ان کے مطابق اس وقت اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد لانے پر کوئی حتمی فیصلہ یا باقاعدہ غور نہیں کیا گیا، البتہ ایسی تحریک سامنے آنے کی صورت میں جے یو آئی اس کا ساتھ دینے پر غور کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی نظام کو مستحکم بنانے کے لیے سیاسی قوتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق معیشت، مہنگائی اور امن و امان کے مسائل سب کے لیے باعث تشویش ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے سندھ اور بلوچستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض علاقوں میں اسٹریٹ کرائم اور بینک ڈکیتیوں جیسے واقعات ریاستی نظم و نسق کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جے یو آئی کے ایک سینیٹر کو ایئرپورٹ پر بیرون ملک سفر سے روکا گیا جبکہ خیبرپختونخوا میں وزرا کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

جے یو آئی سربراہ نے ایک بار پھر مہنگائی اور عوامی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کے بجائے مسائل کے حل کے لیے مؤثر سیاسی و پارلیمانی راستے اختیار کرنے چاہئیں۔