مولانا فضل الرحمان: دو صوبے بدامنی کا شکار، نئے صوبوں کی بات سمجھ سے بالاتر ہے
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کی بحث پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے دو صوبوں میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، جبکہ حکومت انتظامی تقسیم کے نئے منصوبوں کی بات کررہی ہے۔
خانیوال میں جے یو آئی (ف) کے رہنما علامہ اکرام القادری کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں آئینی معاملات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے ان کا مذاق بنایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 15 صوبے بنانے کی تجویز درست نہیں اور موجودہ حالات میں اس طرح کے اقدامات کے بجائے عوام کے مسائل اور امن و امان کی صورتحال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول حکومت عوامی حمایت اور اعتماد کھو چکی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے ماضی کے فاٹا انضمام کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ تجربہ بھی توقعات کے مطابق کامیاب ثابت نہیں ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ جے یو آئی (ف) کی پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی مشاورت جاری ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن جماعتیں اسمبلی کے اندر مشترکہ حکمت عملی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی مشاورت کریں گی۔