قوم کے ساتھ کھڑے رہنے کی قیمت ان سے پوچھیں جنہوں نے اپنے پیارے قربان کیے، میاں افتخار حسین
عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ قوم کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑے رہنے کی قیمت کا اندازہ ان خاندانوں سے پوچھا جائے جنہوں نے اس سرزمین کے لیے اپنے بیٹے قربان کیے، والدین کھوئے یا اپنے گھر، حجرے اور مساجد تباہ ہوتے دیکھے۔
ایک انٹرویو میں میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ باچا خان کے پیروکار اور سرخ جھنڈے سے وابستگی رکھنے والے کارکن میدان چھوڑ کر بھاگنے والے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدم تشدد کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کے مطابق نہ ماضی میں کسی کی غلامی قبول کی اور نہ آئندہ ایسا کریں گے۔
اے این پی رہنما نے کہا کہ ان کے نزدیک عہدے اور منصب کی کوئی خاص اہمیت نہیں، بلکہ اصل عزت یہ ہے کہ مشکل حالات میں اپنی قوم کے ساتھ ہمت، جرات اور ثابت قدمی سے کھڑا رہا جائے۔
میاں افتخار حسین نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت نے اپنے دورِ حکومت میں عملی طور پر ثابت کیا کہ وہ مشکل وقت میں قوم کا ساتھ دیتی ہے، جبکہ ان کے بقول اس کے بعد سے عوام خود کو تنہا محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کے کارکنوں نے قربانیاں دیں، لیکن مشکلات اور مخالف قوتوں کا ثابت قدمی سے مقابلہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ باچا خان سے لے کر موجودہ رہنما ایمل ولی خان تک، ان کی جماعت کے لوگ اپنی سرزمین اور وطن کے لیے جدوجہد کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی اس راستے پر قائم رہیں گے۔