پشاور ہائیکورٹ کا مینا خان آفریدی کیس میں ایف آئی اے اور پاسپورٹ حکام کو نوٹس

پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کے سابقہ عدالتی حکم پر عمل نہ ہونے کے معاملے پر ڈائریکٹر ایف آئی اے اور ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کردیئے ہیں۔ عدالت نے دونوں افسران سے تین دن کے اندر جواب طلب کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار کی جانب سے وکیل بشیر وزیر عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت نے 24 جولائی کے تحریری فیصلے میں مینا خان آفریدی کا نام متعلقہ فہرست سے نکالنے کی ہدایت کی تھی، تاہم اس حکم پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوا۔ وکیل کے مطابق عدالتی حکم کی نقول ایف آئی اے پشاور ریجن اور اسلام آباد کے متعلقہ افسران کو بھی بھجوائی گئی تھیں۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مینا خان آفریدی 18 اگست 2026 کو سرکاری دورے کے لیے برطانیہ روانہ ہونا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے دعوت نامہ موصول ہوچکا ہے اور سفر کے لیے ٹکٹ بھی حاصل کرلیا گیا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آیا مینا خان آفریدی کا نام اب بھی پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں موجود ہے۔ جواب کے لیے مہلت طلب کیے جانے کے بعد اسسٹنٹ ڈائریکٹر امیگریشن عدالت میں پیش ہوئے اور تصدیق کی کہ نام تاحال فہرست میں شامل ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنا قابلِ تشویش ہے۔ اس معاملے پر ڈائریکٹر ایف آئی اے اور ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ نے دونوں افسران کو تین روز کے اندر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے، جبکہ انہیں 21 اگست کو ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔