محسن رضائی کا انتباہ، جنگ کی صورت میں ایران کے پاس جوابی کارروائی کے لیے وسائل موجود ہیں
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ اگر جنگ شروع ہوتی ہے تو ایران طویل عرصے تک جوابی حملے جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق تہران نے اب تک اپنی تمام عسکری صلاحیتیں استعمال نہیں کیں اور وہ آئندہ مرحلے کے لیے بھی تیار ہے۔
روزنامہ ’’جنگ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، تاہم جنگ کی صورت میں انٹرنیٹ کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت سے متعلق تنصیبات بھی ممکنہ اہداف بن سکتی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے سے متعلق ایران کی تجویز کو مؤخر کردیا، جس کے بعد مذاکرات کا عمل رک گیا۔ محسن رضائی کے بقول ٹرمپ کے پاس جنگ ختم کرنے کے لیے کوئی واضح اور قابلِ عمل منصوبہ موجود نہیں، جس کے باعث سفارتی تعطل پیدا ہوا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ جنگ جاری رہنے کے نتیجے میں خطے میں تعلقات کی صورتِ حال ایران کے حق میں تبدیل ہو رہی ہے اور خلیجی ممالک تہران کے ساتھ اپنے تعلقات پر دوبارہ غور کر رہے ہیں۔
محسن رضائی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خلیجی ممالک اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ امریکی فوج اپنے فوجی اڈوں کے دفاع کی صلاحیت بھی نہیں رکھتی۔