محسن نقوی: نئے انتظامی یونٹس کا قیام عوامی رائے سے ہونا چاہیے
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی ضرورت بنتا جارہا ہے اور یہ عمل کسی ایک فرد، سیاسی جماعت یا گروہ کی مرضی کے بجائے عوامی خواہش اور اتفاقِ رائے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے عہدے پر ہوں یا نہ ہوں، اس معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اپنے ’’نظام کو ری سیٹ‘‘ کرنے سے متعلق بیان کی وضاحت کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ان کے بیان کا تعلق کسی سیاسی جماعت یا مخصوص سیاسی بندوبست سے نہیں تھا۔ ان کے مطابق نظام کو ری سیٹ کرنے کا مطلب موجودہ ڈھانچے کو ختم کرنا نہیں بلکہ جہاں خامیاں موجود ہیں وہاں اصلاح اور بہتری لانا ہے۔ یہ عمل آئین کی حدود میں رہتے ہوئے عوامی حمایت اور سیاسی اتفاقِ رائے سے آگے بڑھنا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 75 برسوں میں مختلف حکومتیں آتی اور جاتی رہی ہیں، تاہم ملک اب بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکا۔ ان کے بقول اسی صورتحال کے پیش نظر انتظامی نظام میں مؤثر اصلاحات کی ضرورت ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس بنانے کا اختیار کسی ایک شخصیت، حکومت یا سیاسی جماعت کی خواہش سے طے نہیں ہونا چاہیے بلکہ عوام کی رائے کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آبادی کے اعتبار سے پاکستان دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہوچکا ہے، اس کے باوجود اختیارات اور وسائل کو مقامی سطح تک منتقل کرنے کے معاملے میں مشکلات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی تبدیلی کے نام پر کوئی بھی اقدام آئینی دائرہ کار سے باہر نہیں ہونا چاہیے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے اسلام آباد کو صوبے کا درجہ دینے کی بھی بھرپور حمایت کی۔ ان کے مطابق اسلام آباد کے شہریوں کو این ایف سی میں براہ راست حصہ نہیں ملتا جبکہ وفاقی بجٹ میں بھی دارالحکومت کے لیے وہ مالی حصہ موجود نہیں جو دیگر صوبوں کو حاصل ہے۔
محسن نقوی نے نئے انتظامی یونٹس کی حمایت کرنے والوں سے کہا کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے پُرامید ہیں اور نئے انتظامی یونٹس کا قیام کسی ایک شخص یا سیاسی جماعت کے لیے روکنا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ ان کے بقول یہ عوام کی آواز ہے۔