صوبے بنانے کی بات آئینی دائرے میں کی جاسکتی ہے.مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کی بات کرنا کوئی غیر آئینی یا ناقابلِ قبول معاملہ نہیں، تاہم اس کے لیے آئین میں درج طریقہ کار کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ریاستی نظام کی بعض خامیوں کے باعث نوجوانوں میں مایوسی پیدا ہوئی ہے اور کچھ لوگ حالات سے دل برداشتہ ہوکر شدت کی راہ پر چلے گئے۔

ائیرپورٹ سینٹرل گورنمنٹ ڈسپنسری کی اپ گریڈیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈسپنسری کو 40 بستروں پر مشتمل سیکنڈری کیئر اسپتال میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ منصوبے پر تقریباً 66 کروڑ روپے لاگت آئے گی اور اسے چار ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق نئے اسپتال میں تمام بنیادی سہولیات کے ساتھ 24 گھنٹے ایمرجنسی سروس بھی دستیاب ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے کے شہریوں کو ایکسرے اور دیگر ضروری طبی سہولیات کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سے کسی ترقیاتی منصوبے کے لیے فنڈز حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا، تاہم ڈسپنسریوں کی توسیع سے متعلق مختلف منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 2 ارب 86 کروڑ روپے کے فنڈز حاصل کیے گئے ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ منصوبے کی انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے نجی شعبے کو بھی شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے ملک کو درپیش صحت عامہ کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی سے متاثر ہیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کی بروقت اسکریننگ نہیں ہوپاتی۔ ان کے مطابق سندھ کے کئی علاقوں میں صاف پینے کے پانی کی سہولت محدود ہے، جبکہ دورانِ زچگی ہزاروں خواتین اور ہر سال بڑی تعداد میں بچے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شوگر اور دیگر غیر متعدی امراض بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں، جبکہ پاکستان کو اب بھی پولیو کے حوالے سے عالمی سطح پر مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق گندہ پانی متعدد بیماریوں کی بنیادی وجوہ میں شامل ہے۔

مصطفیٰ کمال نے شہری سندھ کے مسائل پر بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جعلی ڈومیسائل کے ذریعے بعض ملازمتوں میں مقامی نوجوانوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری سندھ کے نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں مناسب مواقع نہیں مل رہے۔

انہوں نے کہا کہ ذمہ داری ملنے کے بعد ان کی کوشش رہی ہے کہ عوامی مشکلات کم کی جائیں، تاہم بعض علاقوں میں پانی کی قلت اس قدر شدید ہے کہ کم آمدنی والے علاقوں سے لے کر پوش آبادیوں تک لوگ پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ موجودہ حالات کے باعث عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق طویل عرصے سے جاری حکومتی اور انتظامی کمزوریوں نے نوجوانوں میں بداعتمادی پیدا کی، جبکہ بعض افراد نے حالات سے تنگ آکر ہتھیار اٹھانے کا راستہ اختیار کیا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کا طریقہ آئین میں واضح ہے اور اس موضوع پر آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے بات کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں اب تک 27 ترامیم ہوچکی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ آئینی نظام میں تبدیلی کی گنجائش موجود رہی ہے۔