آٹو پالیسی 2026-31 کی منظوری کا عمل جاری، بڑی گاڑیوں پر ماحولیاتی لیوی کی تجویز
پاکستان کی نئی آٹو پالیسی 2026-31 تاحال منظوری کے مراحل میں ہے، جبکہ وزیراعظم نے پالیسی پر غور کے لیے دوبارہ اجلاس طلب کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئی آٹو پالیسی کو حتمی شکل دینے سے پہلے آئی ایم ایف سے بھی منظوری حاصل کی جائے گی۔ اس کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کی منظوری ملنے پر پالیسی پر عملی اقدامات کا آغاز کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق مجوزہ آٹو پالیسی کا بنیادی مقصد ملک کی مقامی آٹو موبائل صنعت میں سرمایہ کاری بڑھانا اور گاڑیوں کی برآمدات کو فروغ دینا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پالیسی کے مالی اہداف پورے کرنے کے لیے بڑی انجن کپیسٹی والی گاڑیوں پر ماحولیاتی لیوی عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس مد سے حاصل ہونے والی رقم کو برآمدی سرگرمیوں، تحقیق اور ترقی کے منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ پلان کے تحت 2001 سے 3000 سی سی تک کی گاڑیوں پر 10 فیصد ماحولیاتی لیوی لگانے کی تجویز ہے، جبکہ 3001 سی سی یا اس سے زیادہ انجن کی حامل گاڑیوں پر 19.5 فیصد لیوی عائد کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ان مجوزہ محصولات سے پانچ سال کے دوران تقریباً 142.79 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو آٹو سیکٹر کی ترقی اور برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کیے جانے کی توقع ہے۔