مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش، پاکستان کا سعودی عرب سے اظہار یکجہتی
پاکستان نے مکہ مکرمہ کو حوثی ملیشیا کی جانب سے ڈرون کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے اپنے بیان میں مکہ مکرمہ پر حملے کی کوشش کو انتہائی قابل مذمت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کے تقدس اور تحفظ کا معاملہ ہر پاکستانی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
ترجمان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ وزیراعظم نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور خطے میں مزید کشیدگی پیدا کرنے سے گریز کریں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی ڈرون حملے کی کوشش کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ ان کے مطابق مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف اقدام ہے، جبکہ اس واقعے سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچی ہے۔
اس سے قبل پاکستان ریاض اور مدینہ منورہ کے علاقوں میں سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کی بھی مذمت کرچکا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں پائپ لائن کو نقصان پہنچنے کے ساتھ بعض شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
دوسری جانب دفتر خارجہ نے پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون میں بھارتی بحری جہاز کی مبینہ اشتعال انگیز نقل و حرکت پر بھی شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ ترجمان کے مطابق بھارتی بحریہ کے جہاز نے ایک پاکستانی بحری جہاز کے انتہائی قریب خطرناک انداز میں نقل و حرکت کی۔
واقعے پر بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے پاکستان کا احتجاج ریکارڈ کرایا گیا اور بھارتی حکومت تک یہ پیغام پہنچانے کی ہدایت کی گئی کہ اسلام آباد اس طرز عمل کو ناقابل قبول سمجھتا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق بھارتی بحری جہاز کی یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین اور 1991 کے پاک بھارت دوطرفہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب نئی دہلی میں پاکستانی ناظم الامور کو بھی بھارتی وزارت خارجہ طلب کرکے اس معاملے پر ڈی مارش دیا گیا ہے۔