پاکستان بھر اور بیرونِ ملک پاکستانی مشنز میں ای پاسپورٹ کا اجرا شروع

ایک قوم، ایک پاسپورٹ، ایک شناخت — جدید پاکستان کی جانب ایک اور قدم۔

پاکستان نے پاسپورٹ سروسز کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے مطابق ملک بھر کے دفاتر اور بیرونِ ملک قائم پاکستانی سفارتی مشنز میں الیکٹرانک پاسپورٹ (ای پاسپورٹ) کا اجرا شروع کر دیا گیا ہے۔

اس نئی سہولت کے تحت پہلی مرتبہ پاسپورٹ بنوانے والے شہریوں کے ساتھ ساتھ تجدید کروانے والے افراد کو بھی ای پاسپورٹ جاری کیا جائے گا۔ اس اقدام کو خصوصاً بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے جدید اور محفوظ سفری دستاویزات تک رسائی آسان بنانے میں مدد ملے گی۔

حکام کے مطابق ای پاسپورٹ سروس متعارف کرانے کا مقصد پاسپورٹ کے نظام کو زیادہ مؤثر، محفوظ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ جدید سکیورٹی خصوصیات کے حامل اس پاسپورٹ سے شہریوں کی شناخت کی تصدیق اور سفری دستاویزات کے تحفظ کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ اس پیش رفت سے بیرونِ ملک پاکستانیوں کو پاسپورٹ اور سفری دستاویزات سے متعلق درپیش مشکلات میں کمی آنے کی بھی امید ہے۔

منصوبے کو وزیراعظم شہباز شریف کے وژن اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایات کے تحت عملی شکل دی گئی۔ ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس محمد علی رندھاوا اور ان کی ٹیم نے اس اقدام کی تکمیل میں کردار ادا کیا۔

محمد علی رندھاوا نے ای پاسپورٹ کے اجرا کو پاکستان کے پاسپورٹ نظام کو جدید بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ ان کی قیادت میں اس منصوبے کی تکمیل کو ادارے کی جانب سے جدید تقاضوں کے مطابق خدمات فراہم کرنے کی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

اس پیش رفت پر وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، ڈی جی پاسپورٹس محمد علی رندھاوا اور منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا جا رہا ہے۔ ای پاسپورٹ کی سہولت سے پاکستانی شہریوں، بالخصوص بیرونِ ملک رہنے والوں کو بہتر اور محفوظ پاسپورٹ خدمات فراہم ہونے کی توقع ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ پہلے سے جاری کیے گئے مشین ریڈایبل پاسپورٹس اپنی درج شدہ میعاد ختم ہونے تک قابلِ استعمال رہیں گے۔ تاہم، نئے پاسپورٹ کے اجرا اور موجودہ پاسپورٹ کی تجدید کے لیے ای پاسپورٹ فراہم کیا جائے گا۔