مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کے بیرونی قرضوں میں 200 فیصد اضافہ
وفاقی حکومت کے بیرونی قرضوں سے متعلق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار جاری ہوگئے ہیں، جن کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران پاکستان نے 5 ارب 44 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کا بیرونی قرض حاصل کیا۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 200 فیصد زیادہ ہے۔
دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان نے 1 ارب 81 کروڑ ڈالر کا بیرونی قرض لیا تھا، جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی تین ماہ میں قرضوں کا حجم بڑھ کر 5 ارب 44 کروڑ 96 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس طرح گزشتہ سال کے مقابلے میں 3 ارب 63 کروڑ ڈالر اضافی قرض حاصل کیا گیا۔
اقتصادی امور ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق پاکستان نے عالمی بانڈز کے اجرا کے ذریعے 2 ارب 94 کروڑ ڈالر حاصل کیے۔ اس کے علاوہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے تحت 94 کروڑ 27 لاکھ ڈالر جبکہ بیرونی کمرشل بینکوں سے 30 کروڑ ڈالر کا قرض لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق زیر جائزہ مدت میں عالمی مالیاتی اداروں سے 89 کروڑ 41 لاکھ ڈالر اور مختلف ممالک سے 5 کروڑ 81 لاکھ ڈالر حاصل ہوئے۔ عالمی بینک نے پاکستان کو 35 کروڑ 90 لاکھ ڈالر جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے 15 کروڑ 35 لاکھ ڈالر فراہم کیے۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ پہلے تین ماہ کے دوران حاصل کیے گئے بیرونی قرضوں کی پاکستانی کرنسی میں مالیت تقریباً 1 ہزار 515 ارب روپے رہی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ ہے۔
اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق مجموعی بیرونی قرضوں میں 1 ہزار 260 ارب روپے سے زائد نان پراجیکٹ لون کی مد میں شامل ہیں، جبکہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے پراجیکٹ لون کی صورت میں 254 ارب 80 کروڑ روپے حاصل کیے گئے۔