پاکستان نے افغان شہریوں کی ہلاکت سے متعلق الزامات مسترد کر دیے، دفتر خارجہ کا مؤقف
پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران افغان شہریوں کی ہلاکت سے متعلق افغان طالبان حکومت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان کے خلاف غلط معلومات پھیلانے اور گمراہ کن بیانیہ بنانے سے افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے خطرات کو چھپایا نہیں جا سکتا۔
ترجمان نے مؤقف اختیار کیا کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں پاکستان ساڑھے تین ہزار سے زائد جانوں کا نقصان برداشت کر چکا ہے۔ ان کے مطابق افغان طالبان حکومت اب بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو پناہ فراہم کر رہی ہے۔
سجاد حیدر خان کا کہنا تھا کہ جب شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنایا جائے تو کوئی بھی ریاست خاموش نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان میں پاکستان کی کارروائیوں کا ہدف صرف دہشت گرد اور ان کے معاونت کاروں کے مراکز ہوتے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان سمیت دیگر ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی اور دفاع کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔