پاکستان نے بھارتی وزیر داخلہ کے الزامات مسترد کردیئے، پروپیگنڈا قرار

پاکستان نے بھارت میں گرفتار کیے گئے بعض افراد کو پاکستان سے جوڑنے سے متعلق بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارتی وزیر داخلہ کے دعوے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوششوں کا تسلسل ہیں۔ ان کے مطابق بھارت اپنے اندرونی سکیورٹی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانے کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بھارتی حکومت محدود سیاسی مفادات کے لیے پاکستان پر الزامات عائد کررہی ہے، جبکہ دوسری جانب بھارت کے اندر اقلیتوں کے ساتھ امتیازی رویے اور اختلافِ رائے کو دبانے کے الزامات بھی موجود ہیں۔ انہوں نے بھارت پر بیرون ملک تخریبی سرگرمیوں اور دہشت گرد عناصر کی مبینہ معاونت کے الزامات بھی عائد کیے۔

طاہر حسین اندرابی کے مطابق بھارت کے غیر مصدقہ دعوے عالمی برادری کی توجہ مبینہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور بیرون ملک سرگرمیوں سے نہیں ہٹا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں بھی بھارت کی جانب سے پاکستان میں مبینہ دہشت گردی اور تخریبی کارروائیوں سے متعلق شواہد عالمی سطح پر پیش کرچکا ہے۔ ترجمان نے کلبھوشن جادھو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا کیس پاکستان کے مطابق بھارت کے مبینہ کردار سے متعلق اہم ثبوت فراہم کرتا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے الزامات کو سنجیدہ شواہد کے بغیر قبول نہ کرے اور خطے میں کسی بھی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی یا تخریبی سرگرمیوں کے معاملے پر ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنائے۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کے مقدمات میں پاکستان سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی نوعیت کا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔