چینی کی درآمدی پالیسی کے اثرات، حکومت اضافی اسٹاک برآمد کرنے پر غور

چینی کی درآمد سے متعلق حکومتی پالیسی اب ایک نئے مسئلے کا باعث بنتی دکھائی دے رہی ہے، کیونکہ گزشتہ سال درآمد کی گئی اضافی چینی کو بیرون ملک فروخت کرنے کی تجویز سامنے آگئی ہے۔

حکومت نے گزشتہ برس ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) کے ذریعے تقریباً 3 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کی تھی۔ اس اقدام کا مقصد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کو قابو میں رکھنا بتایا گیا تھا۔ درآمدی چینی پر مختلف ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں بھی چھوٹ دی گئی، تاہم اس کے باوجود یہ چینی مقامی پیداوار کے مقابلے میں مہنگی ثابت ہوئی۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے ابتدا میں شوگر ملز کو درآمد شدہ چینی خرید کر برآمد کرنے کی ترغیب دی، لیکن ملز مالکان نے اس پیشکش میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ بعد ازاں حکومت کی جانب سے شوگر ملز کے متعلقہ پورٹلز کے ذریعے اس چینی کی فروخت کی کوشش بھی کی گئی، مگر مہنگی اور معیار سے متعلق تحفظات کے باعث اسے مارکیٹ میں خاطر خواہ پذیرائی نہ مل سکی۔

ملک میں پہلے سے موجود مقامی چینی کے ذخائر کے باعث مجموعی اسٹاک ضرورت سے زیادہ ہونے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے مسلسل مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اضافی چینی کو برآمد کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ مارکیٹ میں سرپلس کم کیا جاسکے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق جولائی 2026 تک ملک میں تقریباً 31 لاکھ میٹرک ٹن چینی دستیاب تھی، جبکہ قومی سطح پر ماہانہ اوسط کھپت لگ بھگ 5 لاکھ 64 ہزار 196 میٹرک ٹن ہے۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا اندازہ ہے کہ آئندہ کرشنگ سیزن شروع ہونے تک تقریباً 11 لاکھ 97 ہزار میٹرک ٹن اضافی چینی موجود ہوسکتی ہے۔ ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مارکیٹ میں اضافی اسٹاک کم کرنے کے لیے فوری طور پر 6 لاکھ 33 ہزار میٹرک ٹن سرپلس چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔