پاسکو اور یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش، وزیر خزانہ نے باقی مراحل جلد مکمل کرنے کی ہدایت کردی
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) اور یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کو بند کرنے کے عمل میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو باقی کارروائیاں جلد مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔
سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں دونوں اداروں کی بندش سے متعلق اب تک ہونے والے اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں خصوصاً یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے حوالے سے ملازمین، واجبات، اسٹاک، اثاثوں اور جائیدادوں سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ منظور شدہ ملازمین کے سیورنس پیکیج پر عملدرآمد، تصدیق شدہ وینڈرز کے واجبات کی ادائیگی، موجود اسٹاک کی واپسی یا تلفی اور اثاثوں و املاک کے انتظام سے متعلق کام جاری ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملازمین اور تصدیق شدہ واجبات کی ادائیگی کے معاملات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے جبکہ مالی معاملات کی جانچ کے لیے ضروری آڈٹ اور تصدیقی نظام بھی فعال ہیں۔ ملازمین اور دیگر متعلقہ معاملات کی تصدیق کے لیے بائیومیٹرک تصدیق اور معاون دستاویزات کی جانچ جیسے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔
بریفنگ کے مطابق وینڈرز کے بقایا جات کی ادائیگی میں بھی خاصی پیش رفت ہوئی ہے اور مطلوبہ تصدیق مکمل ہونے کے بعد بعض ادائیگیاں کی جاچکی ہیں۔
اجلاس میں یوٹیلیٹی اسٹورز کے باقی ماندہ اسٹاک کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام کے مطابق بڑی مقدار میں برانڈڈ اور دیگر اشیائے خورونوش واپس کردی گئی ہیں یا مقررہ قواعد کے مطابق تلف کی جاچکی ہیں، جبکہ باقی اسٹاک پر بھی ضابطے کے تحت کارروائی جاری ہے۔
یوٹیلیٹی اسٹورز کے ریکس، آئی ٹی آلات اور گاڑیوں سمیت دیگر منقولہ اثاثوں کی نیلامی، منتقلی یا تصرف سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ان اثاثوں کے حوالے سے آڈٹ اور تصدیق کا عمل مکمل کیا جارہا ہے۔
جائیدادوں سے متعلق معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے اجلاس میں اس امر پر بھی گفتگو ہوئی کہ اثاثوں کی فروخت یا منتقلی کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔
وزیر خزانہ نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن سے متعلق زیر التوا عدالتی مقدمات کا بھی جائزہ لیا اور ان کے قانونی انتظام و حل کے لیے جاری کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ادارے کی بندش کے دوران تمام قانونی، مالی اور انتظامی تقاضے بھی مکمل کیے جائیں۔
اجلاس میں پاسکو کی بندش کے عمل پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جس میں موجود اسٹاک اور باقی کام مکمل کرنے کے لیے درکار اقدامات شامل تھے۔ مختلف صوبوں میں موجود پاسکو کے ذخیرے سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔
حکام نے بتایا کہ متعلقہ صوبوں کی ضرورت اور موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پاسکو کے اسٹاک کی منتقلی کے لیے انتظامات کیے جارہے ہیں۔ اس موقع پر سینیٹر محمد اورنگزیب نے صوبائی حکومتوں اور متعلقہ حکام کے ساتھ مؤثر رابطہ رکھنے پر زور دیا تاکہ اسٹاک کی منتقلی سمیت کوئی معاملہ مجموعی بندش کے عمل میں تاخیر کا باعث نہ بنے۔
وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ تمام زیر التوا اقدامات کو واضح ذمہ داریوں اور عملی ٹائم لائنز کے ساتھ مکمل کیا جائے تاکہ اداروں کی بندش کا عمل مربوط انداز میں آگے بڑھ سکے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ بندش کے عمل کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے، عوامی وسائل کا تحفظ، مالی معاملات میں شفافیت اور تمام مراحل کی مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے۔