پاور سیکٹر میں خامیوں پر وفاقی وزیر توانائی کے اہم انکشافات
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پاور کے اجلاس میں بجلی کے شعبے میں موجود خامیوں اور لوڈشیڈنگ سے متعلق اہم معاملات زیرِ بحث آئے، جہاں وفاقی وزیر توانائی نے محکمے کی کارکردگی اور بجلی کے نظام میں پائی جانے والی بعض بے ضابطگیوں پر سوالات اٹھائے۔
محمد ادریس کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پاور سیکٹر کے مسائل اور لوڈشیڈنگ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر توانائی نے ڈیمانڈ نوٹس میں بجلی کا لوڈ کم ظاہر کیے جانے کے معاملے کی نشاندہی کی۔
وفاقی وزیر کے مطابق بعض معاملات میں مبینہ ملی بھگت کے ذریعے ڈیمانڈ نوٹس میں اصل ضرورت سے کم لوڈ درج کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کے ترسیلی نظام پر بعد میں توقع سے زیادہ دباؤ پڑتا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بجلی کے محکمے کا بعض عملہ مبینہ طور پر رشوت کے عوض ڈیمانڈ نوٹس میں کم لوڈ درج کرتا ہے، جس سے بجلی کے پورے نظام پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیمانڈ نوٹس میں بجلی کی ضرورت درست طور پر ظاہر نہ ہونے کے باعث نظام کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور بعد میں اصل طلب سامنے آنے پر پاور سیکٹر کو اضافی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اجلاس میں بجلی کے نظام میں موجود ان خامیوں کو دور کرنے اور لوڈ کی درست نشاندہی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی بات کی گئی۔