پنجاب میں صاف پانی کے منصوبوں کا جائزہ، 2778 نئے فلٹریشن پلانٹس پر پیش رفت
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت صاف پانی سے متعلق مسلسل چھٹے اجلاس میں صوبے کے مختلف اضلاع میں جاری واٹر فلٹریشن پلانٹس کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے ہر ضلع میں منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور انہیں مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں بہاولنگر، بہاولپور، راجن پور، تلہ گنگ، اٹک، راولپنڈی، جہلم، رحیم یار خان اور چکوال سمیت مختلف علاقوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب سے متعلق پیش رفت پر غور کیا گیا۔
حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ 9 اضلاع میں مجموعی طور پر 2778 نئے واٹر فلٹریشن پلانٹس قائم کرنے کے منصوبے جاری ہیں۔ وزیراعلیٰ نے رحیم یار خان، بہاولپور، خوشاب اور ڈیرہ غازی خان میں واٹر بوٹلنگ منصوبوں کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
بریفنگ کے مطابق ہر واٹر بوٹلنگ پوائنٹ سے روزانہ تقریباً 2500 بوتلیں عوام کو فراہم کی جارہی ہیں، جبکہ ہر پلانٹ فی گھنٹہ تقریباً 5 ہزار لیٹر صاف پانی مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ پوٹھوہار کے علاقوں میں پانی کے ذخائر بہتر بنانے کے لیے چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کا کام بھی جاری ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ صاف پانی منصوبے کے کلسٹر ون میں راجن پور اور رحیم یار خان کے 702 مقامات میں سے 570 واٹر فلٹریشن پلانٹس مکمل کیے جاچکے ہیں۔ ان علاقوں میں جہاں زیرِ زمین پانی کھارا ہے، وہاں 95 آر او اور 52 یو ایف پلانٹس لگانے کا منصوبہ ہے۔
کلسٹر ٹو میں ڈیرہ غازی خان، کلسٹر تھری میں کوٹ ادو اور مظفرگڑھ جبکہ کلسٹر فور میں بھکر، میانوالی اور خوشاب شامل ہیں۔
اسی طرح کلسٹر فائیو کے تحت تلہ گنگ، جہلم، راولپنڈی، اٹک، مری اور چکوال کے 1180 مقامات میں سے 902 فلٹریشن پلانٹس مکمل کیے جاچکے ہیں۔ کھارے پانی والے علاقوں کے لیے ان اضلاع میں 231 آر او پلانٹس بھی شامل کیے گئے ہیں۔
بریفنگ کے مطابق کلسٹر 14 میں بہاولپور اور بہاولنگر کے 892 مقامات میں سے 749 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں۔ ان علاقوں کے کھارے پانی والے مقامات پر 130 آر او، 64 یو ایف اور ایم ایف پلانٹس نصب کیے جائیں گے۔
مزید بتایا گیا کہ چشتیاں، منچن آباد، ہارون آباد اور فورٹ عباس میں 482 مقامات میں سے 368 پر کام مکمل کیا جاچکا ہے، جبکہ بہاولپور، یزمان، احمد پور اور حاصل پور کے 410 مقامات میں سے 351 منصوبوں کی تکمیل ہوچکی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے 736 غیر فعال واٹر فلٹریشن پلانٹس کی بحالی کے لیے بھی فوری اقدامات کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو صاف پانی فراہم کرنا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے اور منصوبوں کی بروقت تکمیل شہریوں کی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ صاف اور محفوظ پانی تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اس لیے فلٹریشن پلانٹس کی تکمیل، بحالی اور مؤثر فعالیت کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے۔