رانا ثنا اللہ کی اپوزیشن کو دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی دعوت

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی پورے ملک کا مشترکہ مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اختلافات ایک طرف رکھ کر متحد ہونا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے۔

سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے ماضی کے سیاسی حالات کا حوالہ دیا اور کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس وقت بھی سیاسی مخالفین سے رابطہ کیا تھا اور قومی مسائل پر مل بیٹھ کر بات کرنے کی دعوت دی تھی۔ ان کے مطابق بعد ازاں آپریشن ضربِ عضب شروع کیا گیا، جس کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پیش رفت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اب بھی تمام سیاسی جماعتوں کو دہشت گردی کے مسئلے کا مشترکہ حل تلاش کرنے کے لیے مذاکرات کی دعوت دینے کو تیار ہیں۔ ان کے بقول موجودہ حالات میں قومی یکجہتی پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔

لیگی رہنما نے دعویٰ کیا کہ حالیہ مذاکرات کے دوران متعدد معاملات پر اتفاق ہوگیا تھا، جن میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا معاملہ بھی شامل تھا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون سے انکار کیا۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق صوبے کے وزیراعلیٰ کو ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں شریک کرنے کے لیے بھی کوششیں کرنا پڑی تھیں، جبکہ بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف ریاستی اقدامات میں تعاون کر رہی ہے۔

رانا ثنا اللہ نے سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات مسلسل پیش آرہے ہیں اور ان میں اہلکار اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ انہوں نے سیاسی حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں اور ان کی قیادت کے خلاف مہم چلانے پر بھی تنقید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ جیل سے جاری ہونے والے بیانات اور سوشل میڈیا پر سخت زبان کے استعمال سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں ملاقاتوں پر پابندیوں جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گالم گلوچ اور الزام تراشی کی سیاست معاملات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

اپوزیشن اور حکومتی نمائندوں کے درمیان رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے اسپیکر کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن لیڈر اسپیکر سے ملاقات کے لیے تیار نہیں تو انہیں اس عہدے سے وابستہ مراعات کے معاملے پر بھی وضاحت دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن رہنما وزیراعظم سے اسپیکر کے چیمبر میں ملاقات کے لیے بھی آمادہ نہیں ہوتے۔