رانا ثنا اللہ کا محسن نقوی کے بیان پر ردعمل، مولانا فضل الرحمٰن سے متعلق وضاحت
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کے سیاسی کردار اور گورنر راج سے متعلق ان کے مؤقف پر بات کی ہے۔
نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے پروگرام آن مائی ریڈار میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن ایک سنجیدہ اور معروف سیاستدان ہیں، جو آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر سیاست کرتے ہیں۔ ان کے مطابق محسن نقوی نے اپنے بیان میں کسی سیاسی جماعت کا نام نہیں لیا، اس لیے اس گفتگو کو کسی مخصوص شخصیت سے جوڑنا مناسب نہیں ہوگا۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے کبھی ان سے گورنر کا عہدہ دینے کا مطالبہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2024 کے عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کی خواہش تھی کہ مولانا فضل الرحمٰن ان کے سیاسی اتحاد کا حصہ بنیں، تاہم انہوں نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے معذرت کرلی تھی۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے اس حوالے سے محتاط اور متوازن مؤقف اختیار کیا۔ ان کے بقول، مولانا نے نہ اس اقدام کی غیر معمولی مخالفت کی اور نہ ہی کھل کر حمایت کی، کیونکہ جمہوریت پر یقین رکھنے والے سیاستدان کے لیے ایسے فیصلے کی تائید کرنا آسان نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے پارلیمان میں اپنے جمہوری مؤقف کے مطابق بات کی ہے۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق، ان کی جماعت بھی متعدد مرتبہ یہ کہہ چکی ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی صورتحال کے باعث ایمرجنسی اور گورنر راج ناگزیر ہو گئے تھے اور اس وقت دیگر آپشنز محدود تھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گردی اب ملک کے وجود کے لیے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ گورنر راج میں حصہ نہ ملنے اور گورنرشپ کا عہدہ نہ ملنے پر ناراض ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ رہنما ماضی میں طویل عرصے تک اسٹیبلشمنٹ کے سہارے سیاست کرتے رہے اور اپنی جماعت کے ہوائی ٹکٹوں کے لیے بھی اسی پر انحصار کرتے تھے۔ محسن نقوی نے ایسے سیاستدانوں کی جانب سے دوسروں پر تنقید کو نامناسب قرار دیا تھا۔