سلال ڈیم کے گیٹس کھولے گئے، دریائے چناب میں پانی بڑھنے کا خدشہ
بھارت نے سلال ڈیم کے تمام اسپِل وے گیٹس کھول دیے ہیں، جس کے بعد دریائے چناب میں پاکستان کی سمت پانی کا اخراج شروع ہوگیا ہے۔ ممکنہ طور پر پانی کی سطح میں اضافے کے پیش نظر دریا سے ملحقہ نشیبی علاقوں کے لیے ہنگامی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔
فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق سلال ڈیم سے تقریباً 1 لاکھ 50 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلہ چھوڑا گیا ہے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے دریائے چناب پر واقع ہیڈمرالہ، خانکی اور قادرآباد کے مقامات پر پانی کا دباؤ نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ہیڈمرالہ کے مقام پر آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران اونچے درجے کا سیلابی ریلہ گزرنے کا امکان ہے۔ چناب سے متصل علاقوں کی انتظامیہ کو صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے اور ضروری حفاظتی اقدامات کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بھی پنجاب میں مون سون کے چھٹے اسپیل کے حوالے سے الرٹ جاری کیا ہے۔ پیشگوئی کے مطابق آج رات سے 21 اگست تک صوبے کے بیشتر اضلاع میں بارشوں کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق لاہور، راولپنڈی، مری، گلیات، جہلم، چکوال، تلہ گنگ، اٹک، سیالکوٹ، نارووال اور منڈی بہاؤالدین میں بارش ہوسکتی ہے، جبکہ گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد اور وزیرآباد بھی بارش سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
اسی طرح قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور نورپور تھل میں بھی بارش کی توقع ہے۔ حکام کے مطابق فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، لیہ، بھکر، ساہیوال، پاکپتن، بہاولنگر، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں 20 اور 21 اگست کو بارش ہوسکتی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور لاہور کے نشیبی علاقوں میں موسلا دھار بارش کے نتیجے میں اربن فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے، جبکہ مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔