سلمان اکرم راجہ کی حراست اور رہائی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ پولیس نے انہیں ساتھیوں سمیت تقریباً چار گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا۔
سلمان اکرم راجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ ان کے ہمراہ لطاسب ستی، اخلاق ستی اور دیگر افراد کو بھی پولیس نے کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا۔ ان کے مطابق انہیں اعجاز ستی کے جنازے میں شرکت سے روکنے کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس صورتحال پر ان کے ساتھ اظہارِ تشویش اور نیک خواہشات کا اظہار کرنے والے دوستوں کے وہ شکر گزار ہیں۔
اس سے قبل پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی سلمان اکرم راجہ کی گرفتاری سے متعلق اطلاع دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں وکیل شوکت بسرا کی جانب سے بتایا گیا کہ سلمان اکرم راجہ کو پولیس نے تھانے میں حراست میں رکھا ہوا ہے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق سلمان اکرم راجہ کو اسلام آباد کے تھانہ نیلور منتقل کیا گیا تھا، جہاں بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا۔
بیرسٹر گوہر نے سلمان اکرم راجہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ چند روز کے دوران پی ٹی آئی کے تقریباً 700 کارکن گرفتار کیے گئے ہیں اور بعض ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اور دیگر الزامات پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات کے طور پر رپورٹ ہوئے ہیں۔