ایران میں حکومت مخالف احتجاج سے متعلق مقدمے میں غیر ملکی شہری کو سزائے موت
ایران میں حکومت مخالف احتجاج سے جڑے مقدمے میں ایک غیر ملکی شہری کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق عدلیہ نے بتایا ہے کہ قائم حسینی کو اصفہان میں ایرانی سکیورٹی فورسز پر حملے سے متعلق الزامات ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی گئی، جس پر بعد ازاں عملدرآمد بھی کردیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق جنوری میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران اصفہان میں مبینہ حملوں کے نتیجے میں 4 ایرانی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
ایرانی عدلیہ نے تاہم قائم حسینی کی شہریت یا تعلق رکھنے والے ملک کی وضاحت نہیں کی۔ بتایا گیا ہے کہ وہ ان افراد میں شامل تھا جن کے خلاف اصفہان کے علی خانی اسکوائر میں ہونے والے احتجاج کے سلسلے میں مقدمات قائم کیے گئے تھے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق قائم حسینی پر ہتھیار استعمال کرنے، خوف و ہراس پیدا کرنے، بڑے پیمانے پر بدامنی کا باعث بننے، قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور امن عامہ میں سنگین خلل ڈالنے جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
عدالتی کارروائی میں اسے ان الزامات میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد سزائے موت دی گئی۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس کیس سے متعلق مزید تفصیلات یا مذکورہ غیر ملکی شہری کی قومیت سامنے نہیں لائی گئی۔