وزیراعظم شہباز شریف کی دہشتگردی کے خلاف قربانیوں کو نظرانداز کرنے پر تنقید
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے ہزاروں اہلکاروں نے ملک کے بچوں اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کے متعدد سیاسی خاندانوں نے بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دیں، تاہم امن قائم ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں دہشتگردوں کو دوبارہ پاکستان آنے کی اجازت دی گئی، جس سے ماضی کی قربانیوں کے ثمرات ضائع ہوگئے اور اس کے منفی نتائج صوبے کے عوام کو بھگتنا پڑے۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف دی گئی قربانیوں کی قدر نہ کرنا ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے دور میں خیبرپختونخوا میں تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کے شعبوں کو نظرانداز کیا گیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ صوبائی حکومت کے دوران پولیس کی پانچ ہزار خالی آسامیوں پر بھرتیاں نہیں کی گئیں، جبکہ محکمہ انسداد دہشتگردی اور پولیس کی تربیت کے لیے بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز کو جدید اسلحہ، ضروری آلات اور مناسب تربیت کی فراہمی پر بھی توجہ نہیں دی گئی۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت تمام صوبوں نے خیبرپختونخوا کو اضافی وسائل فراہم کرنے پر اتفاق کیا تھا، کیونکہ یہ صوبہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہا تھا۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 800 ارب روپے فراہم کیے گئے، لیکن اس کے باوجود دہشتگردی کا خاتمہ نہ ہوسکا اور شدت پسندی نے دوبارہ سر اٹھا لیا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہوسکا، جبکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پیدا ہونے والے حالات نے صوبے کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصے میں دہشتگردی کے واقعات میں دوبارہ اضافے سے امن و امان کی صورتِ حال متاثر ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ بہادر سکیورٹی فورسز نے عظیم قربانیوں کے ذریعے دہشتگردی کا خاتمہ کیا تھا اور 2018 تک خیبرپختونخوا میں امن قائم ہوچکا تھا۔ اس کامیابی میں سکیورٹی اداروں کے ساتھ عام شہریوں کی قربانیوں کا بھی اہم کردار تھا۔
شہباز شریف کے مطابق دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مجموعی طور پر 80 ہزار پاکستانی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال کو پہنچنے والے نقصان اور حالیہ برسوں میں دہشتگردی کے دوبارہ بڑھتے ہوئے خطرات پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔