شیر افضل مروت کی پی ٹی آئی پر تنقید، خیبر پختونخوا کے عوام کی خاموشی کو اہم قرار دے دیا
رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے معاملے پر عوام کی جانب سے سڑکوں پر نہ نکلنا ان افراد کے دعووں کے برعکس ہے جو بڑے پیمانے پر احتجاج کی توقع ظاہر کر رہے تھے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے پاکستان تحریک انصاف کی اندرونی صورتحال پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں ایک مخصوص گروہ کا اثر و رسوخ بڑھ چکا ہے، جو میرٹ کے بجائے اپنے پسندیدہ افراد کو آگے لانے کو ترجیح دیتا ہے۔
شیر افضل مروت کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے معاملے کو چند روز گزرنے کے باوجود عوام کی خاموشی ان دعووں پر سوال اٹھاتی ہے جن میں لاکھوں افراد کے احتجاج کے لیے باہر نکلنے کی بات کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پارٹی نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا مؤثر احتساب نہیں کیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی میں نفرت انگیز بیانات، جھوٹے دعووں اور مخالفین کے خلاف نازیبا زبان کے استعمال کو فروغ دیا گیا، جبکہ پارٹی کے اندر بعض عناصر سازشوں اور باہمی اختلافات میں مصروف ہیں۔
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ دو ماہ بعد خیبر پختونخوا میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور علی امین گنڈاپور کا سیاسی اثر و رسوخ برقرار ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مناسب وقت پر دوبارہ سڑکوں پر نکلیں گے اور انہیں پارٹی سے الگ کرنے والے افراد خود انہیں واپس آنے کی دعوت دیں گے۔
یہ بیانات انہوں نے پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست اور خیبر پختونخوا میں حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں دیے۔