اسٹروا ایپ سے امریکی فوجی تنصیبات کی حساس معلومات سامنے آنے کا انکشاف
برطانوی میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسٹروا ایپ کے ذریعے امریکی فوجیوں کی نقل و حرکت اور بعض حساس فوجی تنصیبات سے متعلق معلومات عوامی سطح پر ظاہر ہوگئیں۔
رپورٹ کے مطابق اسٹروا استعمال کرنے والے 1,300 سے زائد افراد نے امریکی حساس فوجی مقامات سے متعلق سرگرمیوں اور ڈیٹا کو ایپ پر شیئر کیا۔ بتایا گیا ہے کہ ان میں سے متعدد صارفین نے اپنی معلومات اصل ناموں کے ساتھ پوسٹ کیں، جس سے ان کی شناخت بھی ممکن ہوئی۔
اسکائی نیوز کے مطابق بحرین اور اردن میں اسٹروا پر دستیاب ڈیٹا کی مدد سے امریکی فوجی اہلکاروں کی نقل و حرکت کا اندازہ لگایا گیا۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ایسی معلومات ممکنہ طور پر امریکی اہداف کی نشاندہی کے لیے بھی استعمال ہوسکتی تھیں۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسٹروا کے ڈیٹا سے اسرائیل کے دیمونا جوہری تحقیقاتی مرکز کے اندر ہونے والی بعض سرگرمیوں سے متعلق معلومات بھی سامنے آئیں۔
واضح رہے کہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے 2018 میں فوجی اہلکاروں کو فٹنس اور لوکیشن ٹریکنگ ایپس کے ذریعے حساس معلومات کے ممکنہ افشا کے حوالے سے خبردار کیا تھا۔ اس کے باوجود رپورٹ کے مطابق اسٹروا پر حساس مقامات اور سرگرمیوں سے متعلق معلومات شیئر ہوتی رہیں۔