متعدد قتل کے مقدمات میں عمر قید کی سزا کا معاملہ، سپریم کورٹ میں اہم قانونی نکات پر غور جاری
سپریم کورٹ میں متعدد قتل کے مقدمات میں عمر قید کی سزا کے نفاذ اور اس کی حقیقی مدت سے متعلق اہم قانونی معاملے پر سماعت جاری ہے۔ عدالت اس سوال کا جائزہ لے رہی ہے کہ ایک سے زیادہ قتل کے مقدمات میں دی جانے والی عمر قید کی سزائیں بیک وقت نافذ ہوں گی یا ایک سزا مکمل ہونے کے بعد دوسری شروع ہوگی، جبکہ پاکستان میں عمر قید کی قانونی اور عملی مدت بھی زیر غور ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا سات رکنی لارجر بینچ ان قانونی سوالات کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس معاملے پر پنجاب حکومت نے بھی اپنا تحریری مؤقف عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل طارق صدیق کے ذریعے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ ہر مقدمے میں سزاؤں کو یکے بعد دیگرے نافذ کرنے کا حکم ضروری نہیں، تاہم غیر معمولی اور انتہائی سنگین جرائم میں اس حوالے سے واضح وجوہات کے ساتھ عدالتی حکم دیا جا سکتا ہے۔
تحریری جواب کے مطابق قتل، اغوا، جنسی زیادتی اور دہشت گردی جیسے سنگین جرائم میں، خصوصاً ایسے واقعات جن سے عوامی ضمیر متاثر ہوا ہو، ایک سے زیادہ سزاؤں کو یکے بعد دیگرے نافذ کرنے پر غور کیا جانا چاہیے۔
پنجاب پروسیکیوشن کا مؤقف ہے کہ اس طریقۂ کار سے فوجداری نظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے، جرائم کی سنگینی کو مدنظر رکھنے اور سزا کے تادیبی و عبرت ناک مقاصد پورے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
عمر قید کی عملی مدت پر پنجاب حکومت کا مؤقف
پنجاب پروسیکیوشن نے عدالت کو بتایا ہے کہ معافیوں اور سزاؤں میں تخفیف کو شمار کیا جائے تو عمر قید کی عملی مدت بعض صورتوں میں 15 سال تک رہ جاتی ہے، جبکہ قانون میں عمر قید کو 25 سال کے عرصے کے طور پر بھی بیان کیا جاتا ہے۔
تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ متعدد افراد کے قتل میں ملوث مجرم کو محض اس بنیاد پر رہائی کا فائدہ نہیں ملنا چاہیے کہ اس کی مختلف سزائیں بیک وقت چلانے کا حکم دیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق ایسا ہونے سے ایک قتل اور متعدد قتل کے جرائم کے درمیان فرق کم ہونے کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔
پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ جب ایک سے زیادہ انسانی جانیں لی جائیں تو ہر جرم کی سنگینی کو الگ سے مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ تمام سزاؤں کو ایک ہی مدت میں ضم کرنے سے اضافی جرائم کی شدت اور ان کے قانونی نتائج پوری طرح نمایاں نہیں رہتے۔
قانونی ترامیم اور سزا کے مقاصد
پنجاب پروسیکیوشن نے اپنے جواب میں کرمنل لاز (ترمیمی) ایکٹ 2021 کا حوالہ بھی دیا۔ تحریری مؤقف کے مطابق یہ قانون یکم دسمبر 2021 کو نافذ ہوا، جس کے ذریعے تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 375-A اور 376 میں سزاؤں سے متعلق ترامیم کی گئیں۔ ان میں بعض جرائم کے لیے مجرم کی باقی ماندہ طبعی زندگی تک قید کی سزا بھی شامل ہے۔
جواب میں کہا گیا ہے کہ عدالت کو اپنے فیصلے میں واضح طور پر طے کرنا چاہیے کہ مختلف جرائم پر دی جانے والی سزائیں بیک وقت چلیں گی یا ایک کے بعد دوسری نافذ ہوں گی۔
پنجاب حکومت نے پنجاب سزائیں ایکٹ 2019 کی دفعہ 4 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سزا کے بنیادی مقاصد میں مجرم کو سزا دینا، جرائم کی روک تھام، مجرم کی اصلاح و بحالی، عوام کا تحفظ اور سزا کے ذریعے دوسروں کو جرم سے باز رکھنا شامل ہیں۔
تحریری جواب میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 اور انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 میں معافی یا سزا میں تخفیف سے متعلق پابندیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پنجاب پروسیکیوشن کے مطابق انتہائی سنگین جرائم سے نمٹنے کے لیے قانون میں خصوصی انتظامات کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
شاہ حسین کیس کے فیصلے پر پنجاب پروسیکیوشن کا اعتراض
پنجاب پروسیکیوشن نے شاہ حسین کیس کے پیراگراف 40 پر بھی اعتراض کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے اسے خلافِ قانون قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس پیراگراف میں بشیر کیس میں طے کیے گئے قانونی اصول کو نظرانداز کیا گیا۔
پروسیکیوشن کے مطابق اگر عمر قید کا مطلب ہر صورت مجرم کی باقی ماندہ پوری زندگی تک قید ہوتا تو ایک سے زیادہ عمر قید کی سزاؤں کو یکے بعد دیگرے نافذ کرنے کا سوال پیدا نہ ہوتا، کیونکہ کسی شخص کو اس کی باقی ماندہ زندگی کے لیے دو مرتبہ قید نہیں کیا جا سکتا۔
تحریری جواب میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ انتظامیہ کے سزاؤں میں تخفیف اور معافی دینے کے اختیار کو تسلیم کر چکی ہے۔ تاہم پنجاب پروسیکیوشن کا کہنا ہے کہ ان رعایتوں کے نتیجے میں عمر قید کی مؤثر عملی مدت بعض حالات میں 15 سال تک رہ جاتی ہے۔
متعدد قتل کے مقدمات میں عمر قید کی مدت اور مختلف سزاؤں کے نفاذ سے متعلق کیس کی آئندہ سماعت 10 نومبر کو مقرر کی گئی ہے۔