طلال چوہدری کی مولانا فضل الرحمان پر تنقید، خیبرپختونخوا میں گورنر راج عارضی اقدام قرار
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے مولانا فضل الرحمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کو فائدے کا موقع سمجھ کر اس میں حصہ طلب کیا جا رہا ہے، جس کی انہیں جے یو آئی کے سربراہ سے توقع نہیں تھی۔
جڑانوالہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ہنگامی حالت نافذ کرنا حکومت کا آخری آپشن تھا۔ ان کے مطابق مذاکرات میں مولانا فضل الرحمان کی کوششیں کامیاب نہ ہونے کے بعد وفاقی حکومت کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔
وزیر مملکت نے واضح کیا کہ حکومت خیبرپختونخوا میں کوئی نیا سیاسی نظام قائم کرنے نہیں گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہنگامی اقدامات محدود مدت کے لیے ہیں اور حکومت کی کوشش ہے کہ سیاسی سرگرمیاں جلد معمول پر آجائیں۔
طلال چوہدری نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی صورت حال پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی کے سربراہ دو جماعتوں سے شکست کھا چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ گیارہ برس کے دوران تحریک انصاف کے کسی رہنما پر حملہ نہیں ہوا اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے پی ٹی آئی کے حق میں بیان بھی جاری کیا گیا۔ ان کے بقول پی ٹی آئی اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان کسی نہ کسی نوعیت کی مماثلت موجود ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے مزید کہا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر تک پہنچنے کے لیے پاکستان سے باہر بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گردوں کا ساتھ دینے والے کسی بھی شخص کے خلاف ریاست قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔