ٹیکسلا میں ٹک ٹاکر عائشہ قتل کیس، نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری
ٹیکسلا میں دو روز قبل ٹک ٹاکر شمسو بی عرف عائشہ کو فائرنگ کرکے قتل کیے جانے کے واقعے میں پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے، تاہم مقتولہ کے والد کے مطابق نامزد ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہوسکے۔
مقتولہ کے والد نے پولیس کو دی گئی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بیٹی کو اس کے جاننے والے کاشف، کوثر اور جاوید عرف شاہین نے مبینہ طور پر قتل کروایا۔ ان کے مطابق کاشف کے فون پر عائشہ گھر سے باہر گئی، جس کے بعد موٹرسائیکل سوار مسلح افراد نے فائرنگ کرکے اسے نشانہ بنایا۔
مدعی کے مطابق عائشہ نے کوثر اور جاوید کو ایک پلاٹ فروخت کیا تھا، تاہم رقم کی ادائیگی کے معاملے پر تنازع پیدا ہوگیا تھا۔ والد کا الزام ہے کہ اسی مالی اختلاف کے باعث ان کی بیٹی کو مبینہ طور پر قتل کروایا گیا۔
پولیس کے مطابق ایف آئی آر میں نامزد تینوں افراد کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع دیر سے ہے، جبکہ مقتولہ بھی دیر کی رہائشی تھی اور تقریباً سات سے آٹھ ماہ قبل ٹیکسلا منتقل ہوئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں اور چھاپے جاری ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ کے والد نے بتایا کہ عائشہ کے موبائل فون پر کاشف نامی شخص کی کال موصول ہوئی، جس کے بعد وہ اپنے بھائی اور بہن کے ہمراہ گھر سے روانہ ہوئی۔ کچھ دیر بعد خاندان کو اطلاع ملی کہ عائشہ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا ہے۔
والد کے مطابق وہ ٹی ایچ کیو اسپتال ٹیکسلا پہنچے جہاں انہوں نے بیٹی کی لاش کی شناخت کی۔ واقعے میں عائشہ کی ایک بہن اور بھائی بھی زخمی ہوئے۔
مقدمے کے متن کے مطابق مقتولہ کے بھائی نے بتایا کہ موٹرسائیکل پر سوار افراد میں سے پیچھے بیٹھے شخص نے فائرنگ کی۔ گولی عائشہ کی گردن پر لگی، جس کے بعد گاڑی بے قابو ہوکر ایک ڈمپر سے جا ٹکرائی۔
مقتولہ کے والد کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا سامنے آنے کی صورت میں مبینہ ملزمان کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں اور گرفتاریوں کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔