برطانوی وزیر اعظم نے برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر کے بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی کا اعلان کرتے ہوئے اسے بچوں کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی اقدام قرار دیا ہے۔
پیر کے روز میڈیا بریفنگ میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت 16 سال سے کم عمر تمام بچوں کی بڑی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی بند کر دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بچوں کی سلامتی اور خوشی پر کوئی سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں، اسی لیے یہ پابندی ہر صورت نافذ کی جائے گی۔
اسٹارمر کے مطابق پابندی کے تحت کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ آن لائن گیمنگ اور لائیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر بھی اجنبی افراد سے بلا نگرانی رابطے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان اقدامات کو انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے ’عالمی معیار کی کارروائی‘ قرار دیا۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے قانون سازی رواں سال کے اختتام تک مکمل کر لی جائے گی جبکہ پابندی کا عملی نفاذ 2027 کے موسمِ بہار سے شروع ہوگا۔ عمر کی تصدیق کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی، تاہم یوٹیوب کڈز اور گوگل کلاس روم جیسی بعض تعلیمی سروسز کو استثنا حاصل ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ صارفین کو اپنی جانب مسلسل متوجہ رکھیں۔ ان کے بقول ’لامحدود اسکرول‘ جیسی خصوصیات بچوں کو ہوم ورک، مطالعے، کھیل کود اور بروقت آرام سے دور کر دیتی ہیں۔
دوسری جانب اس فیصلے پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ اپوزیشن جماعت لبرل ڈیموکریٹس نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سیاسی مقاصد کے لیے ایک نامکمل اور جلد بازی میں تیار کی گئی پالیسی نافذ کر رہی ہے۔ بعض حکومتی حلقوں میں بھی اس فیصلے کے وقت اور طریقہ کار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔