امریکا میں مائیکروسافٹ سمیت بڑی آئی ٹی کمپنیوں کی گرین کارڈ اسپانسرشپ معطل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ہنرمند غیر ملکی کارکنوں سے متعلق امیگریشن پالیسی سخت کرتے ہوئے مائیکروسافٹ، ایڈوب، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، وِپرو اور ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز سمیت متعدد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی گرین کارڈ اسپانسرشپ سے متعلق درخواستوں پر کارروائی روک دی ہے۔ اس کے علاوہ ہارورڈ، ییل اور اسٹینفورڈ سمیت 9 معروف جامعات کے خلاف بھی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد امیگریشن پروگراموں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرنا اور امریکی شہریوں کے روزگار کے مواقع کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ ان فیصلوں کو غیر ملکی ہنرمند کارکنوں سے متعلق امیگریشن پروگراموں کے خلاف وسیع کارروائیوں میں شمار کیا جارہا ہے، جس سے ہزاروں غیر ملکی ٹیکنالوجی ملازمین کے لیے مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ تحقیقات کے دوران مبینہ دھوکا دہی کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق بعض کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کرنے کے دوران ہی غیر ملکی کارکنوں کے لیے مستقل رہائش کی درخواستیں بھی جمع کرائیں۔ وینس نے کہا کہ مائیکروسافٹ ایک اہم امریکی کمپنی ہے، تاہم اسے امریکی کارکنوں کو ملازمت دینے کو ترجیح دینی چاہیے۔

امریکی وزیر محنت کیتھ سونڈرلنگ کے مطابق گرین کارڈ سے متعلق کارروائی روکنے کا فیصلہ مائیکروسافٹ اور ایڈوب کے علاوہ کوگنیزنٹ، انفوسس، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، وِپرو، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز اور کیپ جیمینی پر بھی لاگو ہوگا۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ ان کمپنیوں کی جانب سے مستقل لیبر سرٹیفکیشن کے لیے جمع کرائی جانے والی نئی درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی، جبکہ پہلے سے زیرِ غور درخواستوں پر بھی کارروائی معطل رہے گی۔

دوسری جانب نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ ہارورڈ، ییل اور اسٹینفورڈ سمیت 9 جامعات کے خلاف بھی تحقیقات کی جائیں گی۔ امریکی انتظامیہ کا الزام ہے کہ ان تعلیمی اداروں نے ایکسچینج وزیٹر ویزا پروگراموں کا غلط استعمال کیا، جس سے امریکی کارکنوں کی اجرتوں اور روزگار کے مواقع پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ ایک طرف بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف امیگریشن قواعد کی ممکنہ خلاف ورزیوں پر کارروائی کررہی ہے، جبکہ دوسری جانب ان کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ قریبی روابط بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

امریکا میں ملازمت کی بنیاد پر گرین کارڈ حاصل کرنے کے لیے مستقل لیبر سرٹیفکیشن پروگرام، جسے پی ای آر ایم (PERM) کہا جاتا ہے، ایک اہم مرحلہ ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت کمپنیوں کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ کسی غیر ملکی امیدوار کو ملازمت دینے سے امریکی کارکنوں کی تنخواہوں، کام کے حالات یا روزگار کے مواقع متاثر نہیں ہوں گے۔

لیبر سرٹیفکیشن کی منظوری کے بعد درخواست کو امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کے پاس بھیجا جاتا ہے، جہاں گرین کارڈ کے حصول کے عمل کے اگلے مراحل مکمل کیے جاتے ہیں۔ نئی پابندیوں کے باعث متاثرہ کمپنیوں کے غیر ملکی ملازمین کے لیے اس عمل میں تاخیر یا رکاوٹ پیدا ہونے کا امکان ہے۔