عظمیٰ بخاری کا سندھ حکومت پر ردِعمل، پنجاب کی کارکردگی پر بات کرنے کا مؤقف

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب کو سندھ سے کسی قسم کا اختلاف نہیں، تاہم اگر صوبے کی بہتر کارکردگی کسی کو طنز یا طعنے کے طور پر محسوس ہوتی ہے تو پنجاب اپنی کارکردگی پر بات کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کسی بھی فرد یا ادارے پر بغیر ثبوت کرپشن کے الزامات لگانا مناسب نہیں اور ایسے معاملات میں قانونی کارروائی کا راستہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق محض ثبوت کے بغیر پریس کانفرنسز کرنے پر سوال اٹھانا سیاسی انتقام کے زمرے میں نہیں آتا۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جن صوبائی معاملات میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے سوالات اٹھتے رہے ہیں، انہیں بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق سندھ میں سڑکوں کے منصوبوں سے لے کر دیگر شعبوں میں مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کے معاملات سامنے آتے رہے ہیں۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سندھ میں پنکھوں کی مبینہ خرید و فروخت سے لے کر امتحانی مراکز سے متعلق شکایات تک مختلف معاملات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں صوبوں کی کارکردگی اور وہاں سامنے آنے والے مبینہ اسکینڈلز پر یکساں طور پر بات ہونی چاہیے۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے مزید کہا کہ پنجاب پر تنقید کرنے سے پہلے سندھ میں سامنے آنے والے معاملات کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے اور عوامی مفاد میں ہر صوبے میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔