وائٹ ہاؤس کی نئی رپورٹ، 40 سے زائد ممالک پر چینی مصنوعات کی ٹیرف چوری میں سہولت کاری کا الزام

وائٹ ہاؤس نے ٹیرف سے بچنے کے لیے کی جانے والی مبینہ ٹرانس شپمنٹ سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں 40 سے زائد ممالک پر چینی مصنوعات کو امریکی مارکیٹ تک پہنچانے میں سہولت فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بعض کم ٹیرف والے ممالک کو امریکی درآمدی محصولات سے بچنے کے لیے بطور راستہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس عمل کے دوران چینی مصنوعات کو دیگر ممالک میں منتقل کرکے ان کی پیکنگ یا لیبل تبدیل کیے جاتے ہیں اور بعد ازاں انہیں امریکا برآمد کیا جاتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس مبینہ ٹرانس شپمنٹ کے نتیجے میں امریکی معیشت کو ہر سال اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ میں غیر قانونی ٹرانس شپمنٹ کی سالانہ مالیت 40 ارب سے 303 ارب ڈالر کے درمیان ہونے کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ اگر سالانہ تقریباً 75 ارب ڈالر کی اشیا اس طریقے سے منتقل ہوں تو اس کے باعث لگ بھگ 4 لاکھ 50 ہزار امریکی ملازمتیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2018 کے بعد ٹیرف چوری اور ٹرانس شپمنٹ کا مسئلہ زیادہ نمایاں ہوا۔ مبینہ ٹیرف چوری سے متعلق فہرست میں بھارت، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم پاکستان کا نام اس فہرست میں شامل نہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ٹیرف قوانین کی خلاف ورزی روکنے کے لیے امریکی کسٹمز کی نگرانی مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مشکوک درآمدات کی نشاندہی میں مدد دینے والے ’ڈیٹیکٹو بارڈر‘ نظام کو متعارف کرانے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔

امریکی کسٹمز حکام ٹیرف چوری کی روک تھام کے لیے مصنوعی ذہانت سے بھی مدد لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جدید نظام درآمد شدہ مصنوعات کے سفر، سپلائی چین اور اصل ملک سے متعلق معلومات کا تجزیہ کرکے مشکوک درآمدات کی نشاندہی میں معاونت کرے گا۔