عالمی بینک کا پاکستان میں روزگار کے بحران پر انتباہ، غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی
عالمی بینک نے پاکستان میں معاشی استحکام کے باوجود بڑھتے ہوئے روزگار کے مسائل اور غربت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جبکہ 2024 میں بے روزگاری کی شرح 7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً 36 لاکھ نوجوان روزگار کی تلاش میں لیبر مارکیٹ کا حصہ بن رہے ہیں، تاہم کم آمدن، مہنگائی اور محدود پیداواری ترقی عوام کے معاشی حالات کو متاثر کر رہی ہے۔
عالمی بینک نے پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ 2026 جاری کردی، جس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چھ برس کے دوران ملک میں غربت کی شرح 22 فیصد سے بڑھ کر 29 فیصد ہوگئی۔ رپورٹ کے مطابق 2018-2019 میں غربت کی سطح 22 فیصد تھی، جو 2024-2025 میں بڑھ کر 29 فیصد تک پہنچ گئی۔
رپورٹ میں غربت میں اضافے کی اہم وجوہات میں حقیقی آمدن میں کمی، بلند مہنگائی اور پیداواری صلاحیت کی سست رفتار ترقی شامل ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق خواتین اور نوجوانوں کو بے روزگاری کے حوالے سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔
روزگار کے مواقع میں اضافے کے باوجود آمدن کم
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2018 سے اب تک ایک کروڑ 77 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے، لیکن ان میں سے بڑی تعداد کم اجرت اور کم پیداواری صلاحیت والے شعبوں میں رہی۔ اعداد و شمار کے مطابق 2014 سے 2024 کے دوران پاکستان میں سالانہ لیبر پروڈکٹیویٹی کی شرح محض 0.4 فیصد رہی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشی استحکام کے باوجود موجودہ رفتار سے روزگار کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنا مشکل ہے۔ ہر سال 36 لاکھ نوجوانوں کی لیبر مارکیٹ میں آمد کے باعث روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ایک اہم چیلنج بن چکا ہے، جبکہ مزدوروں کی حقیقی آمدن میں کمی اور مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے۔
عالمی بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ مالی سال 2026-2027 میں مہنگائی کی اوسط شرح 8.2 فیصد رہ سکتی ہے۔ رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح 3.8 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال جی ڈی پی گروتھ 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
معاشی ترقی کی رفتار بڑھانے کے لیے اصلاحات پر زور
عالمی بینک کے مطابق پاکستان کی معیشت 2030-2031 تک درمیانی مدت میں 4.5 فیصد شرح نمو حاصل کر سکتی ہے۔ تاہم ترقی کی رفتار کو سالانہ 6 فیصد تک لے جانے کے لیے وسیع پیمانے پر ساختی اصلاحات اور نجی شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھانا ضروری ہوگا۔
رپورٹ میں توانائی کے شعبے میں بہتری، سرکاری خدمات کی مؤثر فراہمی، نوجوانوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور مہارتوں میں اضافے کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے، ٹیکس نیٹ وسیع کرنے اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
عالمی بینک نے توانائی کے شعبے میں غیر ضروری سبسڈیز ختم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنیادی معاشی اصلاحات پر مؤثر عمل درآمد کی صورت میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 6.2 سے 6.9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
مشرق وسطیٰ کا بحران پاکستانی معیشت کے لیے خطرہ
رپورٹ میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ عالمی بینک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس بحران کے باعث توانائی کے درآمدی بل میں 30 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے درآمدات، قرضوں کی ادائیگی اور بیرونی مالی ضروریات پر دباؤ بڑھے گا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کو بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے سالانہ جی ڈی پی کے تقریباً 15 فیصد کے برابر مالی وسائل درکار ہوں گے۔
عالمی بینک نے پاکستان کی معیشت کو درپیش چار بڑے خطرات کی نشاندہی بھی کی ہے، جن میں مشرق وسطیٰ کا تنازع، ایل نینو کے اثرات، بیرونی فنانسنگ کے حصول میں مشکلات اور مالی وسائل کی کمی شامل ہیں۔ ادارے کے مطابق ان خطرات سے نمٹنے کے لیے معاشی پالیسیوں میں بہتری اور اصلاحات کا تسلسل ضروری ہے۔
ترسیلات زر سے سہارا، تجارتی خسارہ برقرار
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، جس سے ملکی معیشت کو سہارا ملا۔ تاہم اسی عرصے میں تجارتی خسارہ 33.7 ارب ڈالر رہا۔
پاکستان نے چار سال کے وقفے کے بعد پہلی مرتبہ 4 ارب ڈالر کے یورو بانڈز بھی جاری کیے۔ اس کے علاوہ 25 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈ اور 75 کروڑ ڈالر سمیت 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کے اجرا کا بھی رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق موڈیز اور ایس اینڈ پی کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور بانڈز کے اجرا سے بیرونی مالی دباؤ کم کرنے میں مدد ملی۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کو 2050 تک اپر مڈل انکم ملک بنانے کے ہدف کے حصول کے لیے اصلاحات پر مستقل عمل درآمد، نجی شعبے کی ترقی اور پائیدار معاشی نمو کو یقینی بنانا ہوگا۔